Share this link via
Personality Websites!
476384
9372
یہ ہو نہیں سکتا، اتنے سال پہلے الٹراساؤنڈ مشین کا تَصَوُّر بھی نہیں تھا، لہٰذا پھر (2):دوسری صُورت یہی ہے کہ یہ کسی انسان کا نہیں بلکہ اللہ رَبُّ العٰلَمِیْن کا کلام ہے اور مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اللہ پاک کے سچّے رسول ہیں۔
ایک تاجِر کا کہنا ہے: سوئیزرلینڈ میں ایک نو مسلم سے میری ملاقات ہوئی، اس کو میں نے تحفۃً مِسواک پیش کی، اُس نے خوش ہوکر اسے لیا اور چوم کر آنکھوں سے لگایا اور ایک دم اُس کی آنکھوں سے آنسو چَھلک پڑے، اُس نے جیب سے ایک رومال نکالا اس کی تہ کھولی تو اس میں سے تقریباً دو اِنچ کا چھوٹا سا مِسواک کا ٹکڑا برآمد ہوا۔ کہنے لگا میری اِسلام آوَری کے وَقت مسلمانوں نے مجھے یہ تُحفہ دیا تھا۔ میں بَہُت سنبھال سنبھا ل کر اِس کو اِستعمال کررہا تھا یہ خَتْم ہونے کو تھا لہٰذا مجھے تشویش تھی کہ اللہ پاک نے کرم فرمایا اور آپ نے مجھے مِسواک عنایت فرمادی۔ پھر اُس نے بتایا کہ ایک عرصے سے میں دانتوں اور مَسُوڑھوں کی تکْلیف سے دوچار تھا۔ ہمارے یہاں کےڈینٹِسٹسے ان کا علاج بن نہیں پڑرہا تھا۔ میں نے اس مِسواک کا اِستِعمال شروع کیا تھوڑے ہی دِنوں میں مجھے فائدہ ہوگیا۔ میں ڈاکٹر کے پاس گیا تو وہ حیران رہ گیا اور پوچھنے لگا، میری دوا سے اِتنی جلدی تمہارا مَرَض دُور نہیں ہوسکتا ،سوچو کوئی اور وجہ ہوگی۔ میں نے جب ذِہْن پر زور دیا تو خیال آیا کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں اور یہ ساری بَرَکت مِسواک ہی کی ہے۔ جب میں نے ڈاکٹر کو مِسواک دکھائی تو وہ حیرت سے دیکھتا ہی رہ گیا۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami