Share this link via
Personality Websites!
476383
9372
نے ترقی تو کیا کرنی تھی، ابھی اپنی الف بَا بھی پُوری نہیں کر پائی تھی، اُس دَور میں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے جو باتیں ارشاد فرمائیں، جو انداز اِخْتیار فرمائے، جو طریقے اپنائے، آج کے ترقی یافتہ دور میں سائنسدان جدید ترین سائنسی آلات کے ساتھ ان ارشادات اور سنّتوں پر تحقیق کرتے ہیں تو حیران رِہ جاتے ہیں۔
بہت عرصہ پہلے جب الٹراساؤنڈ مشین ایجاد نہیں ہوئی تھی، سائنسدان ابھی اِس کے مُتَعَلِّق تحقیقات کر رہے تھے، کہ ماں کے پیٹ میں بچہ کیسے بنتا ہے؟ نُطْفَہ یکدَم انسانی شکل اِخْتیار کر لیتا ہے یا مختلف مراحِل سے گزرنے کے بعد انسانی شکل اختیار کرتا ہے؟
اَمْرِیکا کا ایک ڈاکٹر تھا: مارشَل جَونْسَن ، وہ بھی اس تحقیقی ٹیم میں شامِل تھا۔ ایک مرتبہ اس کی ایک مسلمان سے مُلاقات ہوئی، مُلاقات کے دوران مسلمان نے قرآنِ کریم کی یہ آیت ڈاکٹرکو سُنائی (اللہ پاک فرماتا ہے):
وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا(۱۴)(پارہ:29،سورۂ نُوْح:14)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: حالانکہ اس نے تمہیں کئی حالتوں سے گزار کر بنایا۔
ڈاکٹر جونْسَنْ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، جب اس نے یہ آیت سُنی تو حیرانی میں یکدَم کھڑا ہو گیا اور تعجب سے بولا: یہ ناممکن ہے، قرآن میں ایسی آیت نہیں ہو سکتی۔ مسلمان نے اسے یہ آیت دِکھائی اور ساتھ ہی دِیگر آیات جو انسان کی تخلیق کے موضوع پر ہیں، وہ بھی دِکھا دیں، یہ دیکھ کر ڈاکٹر بولا: 2 ہی صُورتیں ہو سکتی ہیں؛ (1): یا تو مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے پاس الٹرا ساؤنڈ مشین تھی، انہوں نے الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے دیکھ کر یہ کلام بنا لیا، مگر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami