Share this link via
Personality Websites!
476382
9372
رسولِ عربی کا عجمی زبان میں جواب
پیارے اسلامی بھائیو! ایک مرتبہ ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے پاس مسجدِ حرام شریف میں ایک عجمی وفد(Non-Arab Delegation) پہنچا۔ ان میں سے کوئی بھی نبیّ پاک صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کو نہیں جانتا تھا۔ ان میں سے ایک شخص نے اپنی زَبان میں کہا: مَنْ اَبُوْنْ اَسِیْرَانْ یعنی تم میں اللہ کے رسول کون ہیں؟ حاضرین میں سے کوئی بھی ان کی بات نہ سمجھ سکا۔نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا: اَشْکَدّ اوَرْیعنی یہاں میرے پاس آگے آجاؤ،وہ قریب آگئے اور گفتگو کرنے لگے، آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم انہیں ان کی زَبان میں جواب دیتے رہے، آخِرکار انہوں نے اسلام قبول کیا، آپ سے بیعت کی اور پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! یہ اُمِّی لقب والے ہیں، سب کی بولیاں بھی سمجھتے ہیں، سب کے مسئلے بھی جانتے ہیں اور سب مسئلوں کا حل بھی جانتے ہیں۔
وہ سمجھتے ہیں بولیاں سب کی وہی بھرتے ہیں جھولیاں سب کی
آؤ بازارِ مصطفےٰ کو چلیں کَھوٹے سِکّے وہیں پہ چلتے ہیں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے اُمِّی ہونے کی شان کا اندازہ اس بات سے بھی لگائیے کہ آج سے 1500 سال پہلے جب سائنس
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami