Share this link via
Personality Websites!
476378
9372
کیا ہے؟بابا! وہ کیا ہے؟ ابّو!اس چیز کو کیا کہتے ہیں؟ابُّو!وہ چیز کیا کام کرتی ہے؟ اِس طرح بچے بہت سارے سوال پوچھتے ہیں، بعض اوقات تو ایک ہی سانس میں کئی کئی سوالات بھی پوچھ جاتے ہیں، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دُنیا میں ہر ایک کی فطرت میں سیکھنارکھا گیا ہے، جو بھی دُنیا میں آتا ہے، وہ یہاں آ کر سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہےمگر قربان جائیے! یہ میرے اور آپ کے آقا، بےمثل و بےمثال نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی نِرالی فطرت ہے کہ اللہ پاک نے آپ کی مبارک فطرت میں سیکھنا نہیں بلکہ سکھانارکھا ہے۔
بی بی حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے سب سے پہلا جو جملہ زبانِ پاک سے ادا کیا، وہ یہ تھا: اللہ اَکْبَرُکَبِیْرًا، اَلحمدُ للہ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَسُبْحَانَ اللہ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا (اللہ سب سے بڑا ہے، سب کی سب تعریفیں بار بار اللہ پاک ہی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا ربّ ہے اور صبح و شام اللہ کی پاکی ہے )۔ ([1])
مزید فرماتی ہیں: رات کو جب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم آرام فرما ہوتے تو یہ آواز آتی تھی: لَاِ اِلٰہَ اِلَّا اللہ قُدُّوْسًا، نَامَتِ الْعُیْوُن وَالْرَّحْمٰنُ لَا تَاْخُذُہُ سِنَۃٌ وَلَا نَوْمٌ (اللہ پاک کے سِوا کوئی معبود نہیں جو نہایت پاکی والا، ہماری آنکھوں میں نیند آ گئی مگر رحمٰن وہ ہے، جسے نہ نیند آتی ہے نہ اُونگھ آتی ہے)۔([2])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان عالی شان ہے...!! اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں نا:
اللہ! اللہ! وہ بچپنے کی پھبن! اس خُدا بھاتی صُورت پہ لاکھوں سلام([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami