Share this link via
Personality Websites!
476377
9372
لفظ جب پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس کا یہ والا معنیٰ نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کا مطلب ہوتا ہے: بَے پڑھے۔ یعنی وہ ہستی جنہوں نے دُنیا میں کسی سے بھی عِلْم سیکھا نہیں ہے ۔([1])
لفظ ِ اُمِّی اور شانِ مصطفےٰ کی یکتائی
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں ایک سُوال ذِہن میں اُٹھتا ہے: اُمِّی کا اگر یہ مطلب ہے کہ وہ جنہوں نے دُنیا میں کسی سے عِلْم نہ سیکھا ہو۔ تَو عرب مُعَاشرے کے لحاظ سے تو یہ کوئی نِرالی بات نہیں ہے۔ 1500 سال پہلے مکّہ شریف میں شاید ایک بھی سکول، ایک بھی مدرسہ موجود نہیں تھا، اُن لوگوں کے ہاں پڑھنے لکھنے کا دَسْتُور ہی نہیں تھا ، کوئی بھی اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے نہیں بھیجتا تھا۔ ایسے ماحَوْل میں اگر پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کسی مدرسے، سکول یا استاد کے پاس پڑھنے نہیں گئے تو یہ آپ کی نِرالی شان کیسے ہو گئی؟
اب اِس سُوال کا جواب سنیے! 7 وِیں صدی ہجری کے بزرگ حضرت علّامہ فخر الدین حَرَّالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لفظِ اُمِّی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے سب لوگوں کو جس فطرت (Nature) پر پیدا فرمایا، ہمارے مَحْبُوب نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کواُن سب سے جُداگانہ، بےمثل و بےمثال فطرت پر پیدا فرمایا ہے۔([2])
مطلب یہ ہے کہ اِس دُنیا میں جتنے بھی لوگ آئے ہیں، سب کی فطرت میں پڑھنا لکھنا رکھا گیا ہے، آپ نے اپنے گھروں میں دیکھا ہو گا، بچہ جب بولنا شروع کرتا ہے، چیزوں کو دیکھنا اور سمجھنا شروع کرتا ہے تو وہ بہت سارے سوالات (Questions) پوچھتا ہے، بابا! یہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami