Share this link via
Personality Websites!
475743
9360
ترجمہ: جس نے میری سُنّت کی پَیروی کی، وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری سُنّت سے بےرغبتی کی، وہ مجھ سے نہیں۔ ([1])
عُلَمائے کرام اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جو بندہ کسی سُنّت کو بُرا جانے ، وہ اسلام ہی سے خارِج ہے اور جو بِلاعذر سُنّت چھوڑنے کا عادِی ہو وہ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے پسندیدہ اور پرہیز گار لوگوں میں سے نہیں۔([2])
ہمارے مُعَاشرے کا یہ بھی ایک کمزور پہلو ہے، ہمارے ہاں سنّتوں سے بہت بےتوجہی پائی جاتی ہے، سُنتوں پر عَمَل کرنا تو بعد کی بات ہے، سنتوں کی مَعْلُومات ہی کب ہوتی ہے؟ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم چلتے کیسے تھے؟ بیٹھتے کیسے تھے؟ کھانا کھانے کا مبارک انداز کیسا تھا؟ آرام فرمانے کا انداز کیسا تھا؟ آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی پیاری پیاری ادائیں کیا ہیں؟ اس کی مَعْلُومات ہی نہیں ہوتیں۔ ہاں! نیا فیشن کون سا چل رہا ہے، یہ مَعْلُوْم ہوتا ہے؟ آج کل مارکیٹ میں موبائل کا نیا ماڈل کونسا ہے؟ گاڑی کا نیا ماڈل کونسا ہے؟ جوتوں، کپڑوں وغیرہ میں ٹرینڈ کیا چل رہاہے؟ یہ سب مَعْلُومات ہوتی ہیں مگر افسوس! آمنہ کے لال، رسولِ بےمثال صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی سنّتوں کی مَعْلُومات کم ہی ہوتی ہے اور جن سنّتوں کی مَعْلُومات ہے بھی، ان پر بھی عَمَل نہیں ہو پاتا، مثلاً؛ داڑھی مبارک ہی کو لے لیجیے! کون سا مسلمان ہے جو نہیں جانتا کہ داڑھی رکھنا پیارے آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی پیاری پیاری سُنّت ہے مگر کوئی دوسروں سے شَرماتا ہے، کسی کو نوکری (Job) کی فِکْر ستاتی ہے، کوئی کسی وجہ سے اور کوئی کسی وجہ سے سُنّت اپنانے سے محروم رہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami