Share this link via
Personality Websites!
475741
9360
اُمور میں صاف دل ہو، سینہ کینہ سے پاک ہو،تب اس میں انوارِ مدینہ آئیں گے۔دُھندلا آئینہ اور مَیلا دِل قابلِ عزّت نہیں۔مزید فرماتے ہیں: جیسے اعمال میں سنّتوں کی پابندی باعِثِ ثواب ہے،ایسے ہی دل صاف رکھنا،اچھے اَخلاق ہونا بھی سنّت ہے۔جس سے قربِ رسولُ اللہ حاصِل ہوگا۔افسوس کہ اکثر لوگ یہاں پھسل جاتے ہیں۔اتباعِ سنت کا دعویٰ ہوتا ہے مگر سینے کینوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اللہ پاک اس سنّت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اِن روایات سے مَعْلُوْم ہوا ؛ جو سنّتیں سیکھے، ان پر عَمَل کرے، اسے جنّت میں مَحْبُوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا پڑوس نصیب ہو جائے گا۔ سُبْحٰنَ اللہ ! کتنی بڑی نعمت ہے۔ یقیناً جنّت ہی مِل جانا بھی کوئی کم نعمت نہیں، البتہ! جنّت میں نبیوں کے سردار، مکی مَدَنی تاجدار صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا پڑوس نصیب ہو جانا...!! واہ! اس نعمت کا تَو کہنا ہی کیا ہے؟ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
جنّت نہ دَیں، نہ دَیں تِری رُویَت ہو خیر سے اس گُل کے آگے کس کو ہَوَس بَرْگُ و بَر کی ہے
شربت نہ دَیں، نہ دَیں، تُو کرے بات لطف سے یہ شہد ہو تو پِھر کسے پروا شکر کی ہے([2])
وضاحت:یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم ! جنّت عطا ہونا یا نہ ہونا اللہ پاک کی رضا پر ہے، میری تمنّا یہ ہے کہ ایسی جگہ نصیب ہو جائے جہاں سے آپ کا دیدار نصیب ہوتا رہے، یہ پُھول نصیب ہو جائے تو پِھر جنّت کے پُھول پتوں (یعنی وہاں کی نعمتوں) کی کیا حاجت ہے؟ مجھے جنّت کی پاکیزہ شراب ملے یا نہ ملے، البتہ یہ سَعَادت مل جائے کہ آپ اپنی ہم کلامی کا شرف عطا فرما دیں۔ آپ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami