Share this link via
Personality Websites!
475740
9360
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
جِس کا حُسن اللہ کو بھی بَھا گیا ایسے پیارے سے محبّت کیجیے([1])
وضاحت:جس پیارے مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا حُسْن اللہ پاک کو بھی پسند آگیا ہے،ایسے مَحْبُوب سے ہمیں بھی محبّت ہونی چاہیے۔
پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا: جس نے میری سُنّت سے محبّت کی اور اسے مضبوط تھاما، وہ حَظِیْرَۃُ الْقُدس (یعنی جنّت ) میں میرے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔([2])
ایک حدیثِ پاک میں ہے: رسولِ اکرم، شاہ بنی آدم صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے حضرتِ اَنَس رَضِیَ اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: بیٹا! ہو سکے تو اپنی صبح وشام اس حالت میں کر کہ تیرے دل میں کسی کا کینہ نہ ہو۔ پھر فرمایا: بیٹا! ذٰلِكَ مِنْ سُنَّتِيْ یعنی یہ میری سنّت ہے، وَمَنْ اَحْيَا سُنَّتِيْ فَقَدْ اَحَبَّنِيْ، وَمَنْ اَحَبَّنِيْ كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ یعنی جس نے میری سُنَّت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے مَحبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحبَّت کی وہ جَنَّت میں میرے ساتھ ہو گا۔([3])
اچھے اَخْلاق ہونا بھی سُنّت ہے
مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس فرمانِ مصطفےٰ : تیرے دل میں کسی کا کینہ نہ ہو، کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یعنی مسلمان بھائی کی طرف سے دُنیوی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami