Share this link via
Personality Websites!
475736
9360
سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت حبیب راعِی رحمۃُ اللہ علیہ تابعی بزرگ ہیں، حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہ عنہ کی صحبت میں رہے، حضرت حبیب راعی رحمۃُ اللہ علیہ نے بکریاں رکھی ہوئی تھیں، انہیں لے کر دریائے فُرات کے کنارے تشریف لے جاتے، وہیں اللہ پاک کی عبادت کیا کرتے تھے، داتا حُضُور رحمۃُ اللہ علیہ اپنی مَشْہور کتاب کَشْفُ الْمَحْجُوبمیں لکھتے ہیں: ایک روز ایک شخص دریائے فُرات کے قریب سے گزرا، اس نے دیکھا کہ حضرت حبیب راعِی رحمۃُ اللہ علیہ نماز پڑھ رہے ہیں اور بھیڑیا بکریوں کی رکھوالی کر رہا ہے، یہ دیکھ کر بڑا تعجّب ہوا، وہ شخص حضرت حبیب راعِی رحمۃُ اللہ علیہ سے ملاقات کے لیے ٹھہر گیا، جب آپ نے نماز مکمل فرمائی تو سلام عرض کیا، آپ نے سلام کا جواب دیا، اس شخص نے عرض کیا: عالی جاہ! آپ کی بکریوں سے بھیڑئیے کو ایسا لگاؤ ہے کہ وہ ان کی حفاظت کر رہا تھا؟ فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ بکریوں کا مالِک اللہ پاک سے محبّت کرتا ہے (یعنی میں اللہ پاک سے محبّت کرتا ہوں، اس لیے مجھ سے، میری چیزوں سے جانور تک محبّت کرتے ہیں)۔ پھر حضرت حبیب راعِی رحمۃُ اللہ علیہ نے لکڑی کا ایک پیالہ پتھر کے نیچے رکھا، فوراً اس پتھر سے دُودھ اور شہد کے 2چشمے جاری ہو گئے، آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے دُودھ اور شہد سے بھرا ہوا پیالہ اس شخص کو دیا، یہ دیکھ کر وہ شخص حیران رِہ گیا اور بولا: عالی جاہ! آپ نے یہ مقام کیسے حاصِل کیا ہے۔ فرمایا: سیدِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami