Share this link via
Personality Websites!
475748
9360
سنّت پر عمل کی برکت سے مغفرت ہوگئی
امام ذہبی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: علّامہ ہِبَۃُ اللہ طَبَری رحمۃُ اللہ علیہ کا انتقال ہوا تو حضرت علی بن حسین رحمۃُ اللہ علیہ نے انہیں خواب (Drem) میں دیکھا۔ پوچھا: اللہ پاک نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ جواب دیا: اللہ پاک نے میری مغفرت فرما دی۔ عرض کیا: کس سبب سے؟ فرمایا: سُنّت کی وجہ سے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ !دیکھا آپ نے سنّت پر عمل کرنا مغفرت کا ذریعہ بن گیا۔ یقیناً کامیاب و کامران ہے وہ جوفرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی سنّتوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔
تِری سنَّتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر چلے تُو گلے لگانا مَدنی مدینے والے
تِرے نام پر ہو قرباں مِری جان،جانِ جاناں ہو نصیب سَر کٹانا مَدنی مدینے والے([2])
آج کے اس فیشن پرست دور میں جس استقامت، ثابت قدمی، شوق و ذوق اور وارفتگی کے ساتھ امیرِ اہلسنت سُنتوں کو اپناتے ہیں، ایسا شوق و ذوق اور ورافتگی عام طور پر کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے*زُلفیں رکھنا سُنّت ہے،انہوں نے خود زلفیں رکھی بھی ہیں، لاکھوں کو رکھوائی بھی ہیں*عمامہ باندھنا سُنّت ہے، انہوں نے خود عمامہ باندھا بھی ہے، لاکھوں کو بندھوایا بھی ہے، اسی طرح اور سنّتیں دیکھ لیجیے! * کھانے کی سنّتیں*پینے کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami