Share this link via
Personality Websites!
475747
9360
کر بکری کی دستی کا گوشت کھایا تھا، پھر اسی طرح کیا تھا، لہٰذا میں نے بھی آپ کی ادا کو ادا کیا۔([1]) *ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عنہ ما مکہ شریف جا رہے تھے، راستے میں ایک درخت آیا، آپ نے جان بوجھ کر اس کی شاخوں میں اپنا عمامہ شریف اُلجھایا، پھر رُک کر اسے چھڑایا اور آگے چل دئیے۔ لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: ایک بار رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم یہاں سے گزرے تو اس درخت کی شاخوں نے آپ کا عمامہ شریف محبّت سے تھام لیا تھا (یعنی عمامہ مبارک شاخ سے اٹک گیا تھا) اور آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے رُک کر اپنا عمامہ شریف چھڑایا تھا (بس میں اسی ادا کو ادا کر رہا تھا)۔([2])
اسی طرح صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہ م کے ایک سے ایک واقعات ہیں، اللہ پاک صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہ م کے صدقے ہمیں بھی سنتیں سیکھنے دِیوانہ وار سُنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم ۔
ہر صحابئ نبی! جنّتی! جنّتی! سب صحابیات بھی! جنّتی! جنّتی!
چار یارانِ نبی! جنّتی! جنّتی! حضرت صدیق بھی! جنّتی! جنّتی!
اور عمر فاروق بھی! جنّتی! جنّتی! عثمان غنی! جنّتی! جنّتی!
فاطمہ اور علی! جنّتی! جنّتی! ہیں حسن حسین بھی! جنّتی! جنّتی!
والدین نبی! جنّتی! جنّتی! ہر زوجۂ نبی! جنّتی! جنّتی!
اور ابو سفیان بھی! جنّتی! جنّتی! ہیں معاویہ بھی! جنّتی! جنّتی!([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami