Share this link via
Personality Websites!
475746
9360
کام کرنا، ادائے مصطفےٰ کو اپنانا گویا اُن کی زِندگی کا نَصْبُ الْعَیْن (یعنی مقصد) بن جاتا تھا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہ م کی سیرت پڑھ کر دیکھیے! یہ ادائے مصطفےٰ ( صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم ) کو اپنانے میں یہ نہیں سوچتے تھے کہ ہم یہ کریں گے تو ہمیں کیا ملے گا، ان کی یہ عشق بھری سوچ ہوتی تھی کہ یہ کام ہمارے مَحْبُوب( صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم ) نے کِیا ہے، بَس ہم نے بھی کرنا ہے، کیوں کرنا ہے؟ کریں گے تو کیا ملے گا؟ نہیں کریں گے تو کیا نقصان ہو گا؟ ان چکروں میں یہ حضرات پڑتے ہی نہیں تھے *مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ، عاشقِ اکبر، حضرت صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس امر پر آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم عمل کیا کرتے تھے میں اسے کیے بغیر نہیں چھوڑتا ، اگر میں آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے حال سے کسی امر کو چھوڑ دوں تو مجھے ڈر ہے کہ میں سنّت سے منہ پھیرنے والا ہو جاؤں گا۔([1])
اللہ اللہ یہ شوقِ اتباع کیوں نہ ہو صدیقِ اکبر تھے
*مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا:جب سے میں نے سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کو بغیر چھنے آٹے کی روٹی کھاتے دیکھا تو اس کے بعد کبھی بھی میرے لیے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں بنائی گئی۔([2]) *مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ نے ایک دِن بکری کی دستی کا گوشت منگوایا اور مسجد کے دروازے پر بیٹھ کر کھا لیا، پھر تازہ وُضُو کیے بغیر نماز ادا کی، پھر فرمایا: ایک دِن رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے اسی مقام پر بیٹھ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami