Share this link via
Personality Websites!
475744
9360
جاتا ہے۔ کاش! ہمیں سنّتوں سے محبّت نصیب ہو جائے۔
خدا و مصطَفٰے ناراض ہوتے ہیں سنو ان سے جو داڑھی کو مُنڈاتے ہیں یامُٹّھی سے گھٹاتے ہیں([1])
عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کا عشقِ رسول
مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ، حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ نے ایک بار ایک مقام پر پہنچ کر پانی منگوایا اور وُضُو کیا، پھر یکایک مسکرائے اور اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے: جانتے ہو میں کیوں مُسْکرایا؟ پھر خُود ہی اس سُوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: میں نے دیکھا کہ ایک روز سرکارِ نامدار، مکی مدنی تاجدار صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے وُضُو فرمایا تھا اور وضو کرنے کے بعد مسکرائے تھے اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہ م سے فرمایا تھا: جانتے ہو میں کیوں مسکرایا؟ پھر مکی مَدَنی مصطفےٰ، احمدِ مجتبیٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے خُود ہی فرمایا: جب آدمی وُضُو کرتا ہے تو چہرہ دھونے سے چہرے کے اور ہاتھ دھونے سے ہاتھوں کے اور سر کا مسح کرنے سے سر کے اور پاؤں دھونے سے پاؤں کے گُنَاہ جَھڑ جاتے ہیں۔([2])
وُضُو کرکے خَنداں ہوئے شاہِ عثماں کہا: کیوں تَبسُّم بھلا کر رہا ہوں؟
جوابِ سُوالِ مخاطب دیا پھر کسی کی ادا کو ادا کر رہا ہوں
حضرت اُمِّ دَرْداء رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت اَبُودَرْداء رَضِیَ اللہ عنہ جب بھی بات کرتے تَو مُسکراتے ۔ میں نے عرض کی: آپ رَضِیَ اللہ عنہا س عادت کو تَرک فرما دیجیے،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami