Share this link via
Personality Websites!
475455
9343
کہا کہ تم لوگ بھی اپنے جانوروں کو اُسی جگہ چَراؤ جہاں حلیمہ رَضِیَ اللہ عَنْہا کے جانور چَرتے ہیں۔ چُنانچہ سب لوگ اُسی چَراگاہ میں اپنے مَویشی چَرانے لگے،جہاں میری بکریاں چَرْتی تھیں،مگر یہاں تو چَراگاہ اور جنگل کا کوئی عمل دَخل ہی نہیں تھا یہ تو رَحْمَت ِ عَالَم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم کے بَرکاتِ نُبوّت کافَیْض تھا جِس کو میں اور میرے شوہر کے سِوا میری قَوم کا کوئی شَخْص نہیں سمجھ سکتا تھا ۔
(سيرتِ مصطفٰے،ص۷۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمّد
پیارے اسلامی بھائیو!محبوبِ کِبرِیا،محمد ِ مصطفٰے صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نشو ونُما دُوسرے بچوں سے نِرالی تھی یعنی جِسم شریف کا بڑھنا دوسرے بچوں سے بالکل مختلف تھا،دن بھر میں پیارےآقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،کےجسمِ مُبارَ ک میں اِتنی نشوونُما اورتوانائی آ جاتی، جتنی عام طورپر بچّوں میں ایک ماہ میں آتی تھی۔
حضرت امام عبدُاللہ مروزی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہنقْل کرتے ہیں کہ جب رسولِ اَکرَم، شہنشاہِ اُمَمصَلَّی اللہ عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کی عمر مبارک 2 ماہ ہوئی تو بچوں کے ساتھ گھٹنوں کے بَل چلنے لگے، 3 ماہ ہوئی تو اُٹھ کر کھڑے ہونے لگے ،جب 4 ماہ ہوئی تو دیوار کے ساتھ ہاتھ رکھ کر ہر طرف چلا کرتے ، 5 ماہ ہوئی تو چلنے پھرنے کی پوری قوت حاصل کرچکے تھے ۔جب عمر مبارک 6 ماہ کو پہنچی تو تیز چلنا شروع فرمادیا تھا ،7 ماہ کو پہنچی تو ہر طرف اچھے طریقے سے دوڑتے تھے اور جب 8 ماہ کے ہوئے تو یوں کلام فرماتے کہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ،9 ماہ کی عمر میں فصیح باتیں کرنا شروع فرمادیں اور جب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کی عُمْر مبارَک 10ماہ کی ہوگئی تَو بچوں کے ساتھ تِیر اَندازِی میں سَبقت لے جاتے اور فرماتے:لِلّٰہِ دَرُّکَ یَا نَفْسُ اَنَا اِبْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یعنی اے نفس! تجھے خدا بھلائی دے،میں عبدُ الْمُطَّلِب کا بیٹاہوں۔اِنہی اَیَّام میں آپ صَلَّی اللہ عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم سے لوگوں نے پوچھا: تم کون ہو؟فرمایا:میں طاقت کے اِعتِبار سے ایک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami