Share this link via
Personality Websites!
475461
9343
وُجودِمبارک سے ظاہر ہونے والی بَرکتوں کے مُتعلِق سُنئے اور جُھومئے، چنانچہ
حُضورپُرنورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے رِضاعِی بھائی کے ساتھ مِل کر بکریاں چَرایا کرتے تھے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکے رِضاعی بھائی ایک دن اپنی والِدہ سے عرْض کرنے لگے:اَمّی جان! میرا حجازی بھائی جب کبھی کسی خُشک وادی میں قدَم رکھتا ہے تَو اُس کی تازگی وہریالی لَوٹ آتی ہے۔ جب بکریوں کو پانی پلانے کی خاطِر کُنوئیں کے قریب آتا ہے تَو پانی خودبخود کنوئیں کے منہ تک بلند ہو جاتا ہے۔ جب سوتا ہے تَو اس کے پاس دَرندے آتے اور قدَم بوسی کرتے ہیں اور جب کبھی دُھوپ میں سو جائے تَو بادل آکر سُورَج کی تپش میں اُس پر سایہ کرتا ہے۔یہ سُن کر حضرت حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہ عَنْہانےارشاد فرمایا:اے میرے بیٹے!اپنے بھائی کا خیال رکھنا۔(الرَّوضُ الفائِق، ص۳۰۳)
پیارے اسلامی بھائیو!حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ پاک کے ایسے پاکیزہ رسول ہیں کہ جنہیں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور بھی جانتے تھے کہ آپ اللہ پاک کے آخری رسول ہیں، یہی وجہ ہے کہ جانور جب حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے رُخِ زیبا کودیکھتے توآپ کا قُرب پانے کی کوشِش کیا کرتے تھے۔ آئیے!اس ضِمن میں ایک اِیمان افروز رُوحانی واقعہ سنئے اورجھومئے،چنانچہ
جب حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عمرمبارک دس (10)سال کی تھی توآپ اپنےچچا زُبیر کے ہمراہ یمن کے سفرپر چلے وہ ایک وادی سے گزرے ، جس میں ایک نر اُونٹ تھا جو لوگوں کو گزرنے سے روک رہا تھا، جب اس اُونٹ نے حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکو دیکھا تو بیٹھ گیا اور اپنا سِینہ زَمِین پر رَگڑنے لگا توحضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَاپنے اُونٹ سے اُتر کر اس پر سوار ہوئے جب وادی پار کرلی تو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami