Share this link via
Personality Websites!
475459
9343
نہیں کیا جاتا وہ اَدھورارَہ جاتاہے۔ (الدُّرُّالْمَنْثُور ج ۱ ص ۲۶)لہٰذاکھانے کِھلانے،پینے پِلانے،رکھنے اُٹھانے، دھونے پکانے ، پڑھنے پڑھانے، چلنے(گاڑی وغیرہ)چلانے،اُٹھنے اُٹھانے، بیٹھنے بٹھانے، بتّی جلانے، پنکھا چلانے،دسترخوان بچھانے بڑھانے، بچھونا لپیٹنے بچھانے، دکان کھولنے بڑھانے، تالا کھولنے لگانے، تیل ڈالنے عطرلگانے، بیان کرنے،نعت شریف سنانے، جوتی پہننے،عمامہ سجانے، دروازہ کھولنے بند فرمانے، اَلَغَرَض ہر جائز کام کے شروع میں (جبکہ کوئی مانِعِ شَرْعی نہ ہو )بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھنے کی عادت بنا کر اِس کی بَرَکتیں لُوٹنا عین سَعادت ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی چاہیے کہ پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکی پیروی کرتے ہوئے نہ صرف خُودآپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتوں پر عَمل کریں بلکہ اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے اس بات کا لحاظ رکھیں کہ انہیں ’’ٹاٹا،پاپا‘‘سکھانے کے بجائے ابتدا ہی سے اللہ پاک کا نام لینا سکھائیں،ان سے کھیلتےہوئے سکھانے کی نیّت سے اُن کے سامنے بار بار اللہ،اللہ کرتے رہیں،اس طرح کرنے سے اِنْ شَآءَاللہ بچےکی زبان سے سب سے پہلا لفظ’’اللہ‘‘نکلے گا۔
مزید بولنا شروع کرے تو پھر کلمۂ طَیِّبَہ لَآ اِلٰہَ اِلَّاا للہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کہنا سکھائیں۔بعض لوگ اپنے بچوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ اللہ اُوپر ہے، لہٰذا ان بچّوں سے جب پیار سے پوچھا جائے کہ بیٹا!اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ تو وہ فوراً آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھا دیتے ہیں، بچّوں کواس طرح کے اشارے ہرگز ہرگز نہ سِکھائیں۔یادرکھئے!اولاد کی صحیح تربیت کا بہترین وقت بچپن ہی ہوتا ہے، کیونکہ جو نیک اور اچھی عادت بچپن میں سکھائی جاسکتی ہے وہ زندگی کے کسی موڑ پر نہیں سکھائی جاسکتی،بچے کو اگرآتے جاتے وقت ٹاٹا ’’بائےبائے‘‘سکھانے کے بجائے سلام کرناسکھائیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہوہ عمر بھر اس عادت کونہیں چھوڑے گا ، اگرچھوٹی سی عمر میں سچ بولنے کی عادَت ڈالی جائے تو وہ ساری عُمر جُھوٹ سے بیزار
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami