Share this link via
Personality Websites!
475309
9335
یہاں دیکھئے! اللہ پاک نے یہ تو بتا دیا کہ مَحْبُوب مصطفےٰصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سب نبیوں سے افضل ہیں مگر آپ کا نامِ پاک ذِکْر نہیں فرمایا۔ اس میں کیا حکمت ہے...؟ یہ بھی بڑی ایمان افروز بات ہے، عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: نام کی ضرورت وہاں ہوتی ہے، جہاں اِس شان کا دوسرا بھی موجود ہو، اگر اِس شان کا مالِک ایک ہی ہو تو نام لینے کی ضرورت نہیں ہوتی، ویسے ہی بات سمجھ میں آجاتی ہے۔
سادہ مثال سے عرض کروں؛ اگر میں کہوں: *میرا خالِق وہ ہے، جس نے یہ آسمان بنایا ہے۔ آپ سمجھ جائیں گے کہ میں کس کی بات کر رہا ہوں، آسمان بنانے والی ذات ایک ہی ہے، لہٰذا نام لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی*میں کہتا ہوں: مجھے رِزْق دینے والا وہی ہے، جو تمام جہان کو رِزْق دیتا ہے، آپ سمجھ جائیں گے، سب کو پالنے والا، سب کا خالِق، سب کا رازِق صِرْف و صِرْف اللہ پاک ہے، کوئی دوسرا ہے ہی نہیں، لہٰذا نام نہ بھی لیا جائے، تب بھی ذِہن ایک ہی طرف جائے گا، پتا چلا؛ جب اِس شان والی ذات ایک ہی ہو تو نام لینے کی ضرورت پیش نہیں آتی، لہٰذا اللہ پاک نے *حضرت آدم عَلَیْہ ِالسَّلام کی شان ذِکْر کی تو نام لیا*حضرت نُوح عَلَیْہ ِالسَّلام کی شان ذِکْر کی تو نام لیا*حضرت ابراہیم عَلَیْہ ِالسَّلام کی شان ذِکْر کی تو نام لیا*حضرت موسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام کی شان ذِکْر کی تو نام لیا*حضرت عیسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام کی شان ذِکْر کی تو نام لیا *مگر جب باری آئی، اس ذیشان نبیصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی تو نام نہیں لیا بلکہ فرما دیا:
وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍؕ-(پارہ:3، سورۂ بقرہ:253)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند ی عطا فرمائی
گویا یہ بتایا جا رہا ہے کہ سب سے اَفْضَل نبی ایک ہی ہیں، لہٰذا نام نہ بھی لیا جائے تو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami