Share this link via
Personality Websites!
475308
9335
*مالِکِ کائنات نے*خالِقِ کائنات نے اپنے مَحْبُوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطانصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو عطا فرمایا ہے، ایسا رُتبہ، ایسا مقام، ایسی عظمت، ایسی شان، ایسا قُرب، ایسا عُرُوج نہ پہلے کسی کو مِلا ہے، نہ آیندہ کسی کو مِل سکتا ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ-مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍؕ- (پارہ:3، سورۂ بقرہ:253)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: یہ رسول ہیں ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پرفضیلت عطا فرمائی،ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند ی عطا فرمائی
اس آیتِ کریمہ میں صاف فرمایا گیا:
وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍؕ-
یعنی ایک نبی وہ ہیں، جن کو تمام انبیائے کرام علیہم ُالسَّلاَم پر درجوں بلندی عطا کی گئی ہے، عِلْمِ تفسیر کے تمام عُلَمائے کرام کا اِس پر اتفاق ہے بلکہ امام رازی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ساری اُمّت کا اِس بات پر اتّفاق ہے کہ یہ ایک نبی جنہیں سب پر درجوں فضیلت دی گئی ہے، اِس سے مراد میرے اور آپ کے آقا، مُحَمَّد مصطفےٰصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہیں۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! آیتِ کریمہ پر ذرا غور فرمائیے! اللہ پاک نے فرمایا:
وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍؕ-(پارہ:3، سورۂ بقرہ:253)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند ی عطا فرمائی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami