Share this link via
Personality Websites!
475324
9335
پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مسلمان اور غیر مُسْلِم کی رُوح قبض ہونے کا حال بیان کیا، فرمایا: جب مؤمن کی رُوح قبض کی جاتی ہے تو آسمان والے فرشتے کہتے ہیں: آج زمین کی طرف سے کتنی پیاری خوشبو آ رہی ہے اور جب غیر مُسْلِم کی رُوح بدن سے نکالی جاتی ہے تو اس سے بدبُو پھیلتی ہے، اَہْلِ آسمان کہتے ہیں: یہ زمین سے کتنی بُری بُو آ رہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آپصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے یہ فرمایا تو اپنی چادر مُبارَک کا کنارہ ناک پر ایسے رکھ لیا، گویا کہ آپصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو بدبُو آ رہی تھی۔([1])
اللہ! اللہ! یہ ہے سونگھنے کی طاقت...!! ہم جانتے ہیں، خوشبو ہو یا بدبُو ہو، ان کے بارے میں صِرْف سوچنے سے کوئی اَثَر نہیں ہوتا، مثال کے طَور آپ جو خوشبُو استعمال کرتے ہیں، آپ اس خوشبو کی شیشی کو ہاتھ میں نہ لیں، کپڑوں پر نہ لگائیں، صِرْف بیٹھ کر اُس خوشبو کا نام پکارنا شروع کر دیں، کیا آپ کو خوشبُو آجائے گی؟ کیا کپڑے معطّر ہو جائیں گے؟ کیا ناک اور سونگھنے کے آلات کو تسکین پہنچے گی؟ نہیں...!! ایسا نہیں ہوتا۔ آپ کو خوشبُو لینی پڑے گی، لگانی پڑے گی، پِھر خوشبُو آئے گی بلکہ ہمارا تو حال یہ ہے کہ خوشبُو لگا بھی لیں تو تھوڑی دیر کے بعد محسوس ہونا بند ہو جاتی ہے، قربان جائیے! آقاصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی سونگھنے کی طاقت مُبارَک پر...!! کوئی غیر مُسْلِم مرا نہیں ہے، اس کی رُوح قبض نہیں کی گئی، اس سے بدبُو پھیلی نہیں ہے، صِرْف آپصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کو بتایا ہے کہ جب غیر مُسْلِم کی رُوح نکلتی ہے تو اس سے بدبُو پھیلتی ہے، صِرْف زبان مبارک سے یہ کہا ہی تھا، آپصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو وہ بدبو محسوس ہونا شروع ہو گئی اور آپ نے ناک مُبارَک پر کپڑا رکھ لیا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami