Share this link via
Personality Websites!
475323
9335
سَلَّم عیادت کے لئے تشریف لائے۔
صحابۂ کرام کیسے خُوش نصیب تھے، بیمار ہو جاتے تو دوجہاں کے تاجدار عیادت کے لئے تشریف لایا کرتے تھے...!!
حضرت سعد رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا، ایسا باکمال ہاتھ ...!! واہ! اس کی ٹھنڈک مجھے دِل پر محسوس ہوئی۔
کاش! یہ سعادت کبھی ہم غُلاموں کو بھی نصیب ہو جائے...!!
خیر! حضرت سعد رَضِیَ اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ رکھا، پِھر فرمایا: تمہیں دِل کا مرض ہے، حارِث ثَقَفِی کے پاس جاؤ! وہ طبیب ہیں، اُنہیں کہو کہ عجوہ کھجور گٹھلی سمیت پیس کر تمہیں (اُس کا پیسٹ بنا کر)پِلائیں۔ اِس سے آرام ہو جائے گا۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں غور فرمائیے! اب سائنسی دور ہے، جدید ٹیکنالوجیز آ چکی ہیں اس کے باوُجُود جب کسی کو دِل کا مرض ہو تو کیا کرتے ہیں؟ سب سے پہلے E.C.G ہوتی ہے، اس سے پتا چلتا ہے کہ دِل بیمار بھی ہے یا نہیں۔ اگر رپورٹ آئے کہ دِل میں کوئی مسئلہ ہے تو اِیْکو کی جاتی ہے، انجیو گرافی کی جاتی ہے، پِھر پتا چلتا ہے کہ دِل میں مسئلہ کیا ہے۔ پِھر اس کے بعد عِلاج کا پراسس شروع ہو تا ہے، قربان جائیے! طبیبِ دوجہاںصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی کیا نِرالی شان ہے۔ سینے سے کپڑا بھی نہیں ہٹایا، اُوپَر ہی سے ہاتھ مبارک رکھا ہے، ای، سی، جی بھی ہو گئی، اِیْکو بھی ہو گئی، انجیو گرافی بھی ہو گئی اور عِلاج بھی تجویز کر دیا گیا۔
مسلم شریف کی حدیثِ پاک ہے۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دِن
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami