Share this link via
Personality Websites!
475322
9335
عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! میں نے بکری خریدنے کے لئے کسی کو بھیجا تھا مگر بکری ملی نہیں، دعوت تو میں آپ کی کر چکی تھی، لہٰذا پڑوسن کے پاس پیغام بھیجا کہ قیمت لے لو، اپنی بکری مجھے دے دو! قسمت ایسی کہ پڑوسی گھر پر نہیں تھا، اُس کی زوجہ نے اُس کی اجازت کے بغیر بکری مجھے دیدی۔ یہ بکری حاصِل تو جائِز ذریعے سے ہی کی گئی ہے مگر اس کے اَصْل مالِک (یعنی پڑوسن کے شوہر) سے اجازت نہیں لی گئی ہے۔ ([1])
اللہ اکبر! چکھنے کی طاقت دیکھئے! ہم کوئی لقمہ مُنہ میں رکھیں*وہ لقمہ گرم ہے یا ٹھنڈا ہے، ہمیں پتا چل جائے گا*مزیدار ہے یا نہیں ہے، ہم سمجھ جائیں گے*نمک کم ہے یا زیادہ ہے، یہ بھی ہم جان لیں گے*کوئی ماہِر باورچی ہو تو شاید یہ بھی سمجھ جائے کہ کھانے میں کیا کیا چیزیں شامِل کی گئی ہے مگر عجیب بات ہے کہ پیارے آقاصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مُنہ میں لقمہ ڈالتے ہیں، زبان مبارک سے چکھتے ہیں تو اس کا صرف ذائقہ ہی نہیں، گرم ٹھنڈا ہونا ہی نہیں بلکہ یہ بھی پتا چل رہا ہے کہ یہ بکری جو ذَبح کر دی گئی ہے، سالن بنا لیا گیا ہے، یہ بکری اس کے مالِک کی اجازت سے ذَبح کی گئی تھی یا بغیر اجازت کے حاصِل کر لی گئی ہے۔ سُبْحٰنَ اللہ! یہ ہے پیارے آقاصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے چکھنے کی طاقت...!!
اب ذرا چھونے کی طاقت پر غور فرمائیے! حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ عنہ مشہور صحابئ رسول ہیں، عَشَرَہ مُبَشَّرَہ (یعنی جنّت کی خوشخبری پانے والے 10صحابۂ کرام ) میں سے ہیں، فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں بیمار ہو گیا، پیارے نبی، مکی مَدَنی، مُحَمَّد عربیصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami