Share this link via
Personality Websites!
475321
9335
آسمان زمین سے کئی گُنَا بڑا ہے اور سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم زمین پر رہ کر آسمان کا مشاہدہ فرما رہے ہیں اور دیکھئے! کتنا گہرا مُشَاہَدہ ہے کہ آسمان کا 4 انگلیوں کے برابر حِصّہ بھی ایسا نہیں جو نگاہِ مصطفےٰ سے چھپا ہو، رسولِ رحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم زمین پر بیٹھ کر دیکھ رہے ہیں کہ آسمان پر 4 انگلیوں کے برابر بھی جگہ خالی نہیں ہے کہ جہاں کوئی فرشتہ پیشانی رکھے رَبِّ کریم کے حُضُور سجدہ نہ کر رہا ہو۔
پھر سماعتِ مصطفےٰ کا بھی کمال دیکھئے! آسمان یہاں سے ہزاروں کلومیٹر دُور ہے، ہم جیسے عام انسانوں کو تو دوسرے کمرے میں بیٹھے لوگوں کی آواز سُنائی نہیں دیتی اور سرورِ عالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے مبارک کان ایسے ہیں کہ زمین پر بیٹھ کر ہزاروں کلومیٹر دُور آسمان کے چَرْچَرَانے کی بھی آواز سُن لیتے ہیں۔
ابوداؤد شریف میں حدیثِ پاک ہے۔ ایک مرتبہ ایک صحابیہ رَضِیَ اللہ عنہا نے پیارے آقاصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی دعوت کی، آپ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کو ساتھ لے کر اُن کے گھر پہنچے، کھانا حاضِر کیا گیا، آپصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے بِسْمِ اللہ پڑھ کر لقمہ لیا، آپ کو دیکھ کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے بھی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا دئیے! لقمے مُنہ میں ڈال لئے۔ مگر اچانک نظر پڑی، آپصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اس ایک ہی لقمے کو اپنے مُنہ مبارک میں گھما رہے ہیں، اندر نہیں اُتار رہے، کچھ دَیر کے بعد فرمایا: اَجِدُ لَحْمَ شَاۃٍ اُخِذَتْ بِغَیْرِ اِذْنِ اَہْلِہَا یہ اُس بکری کے گوشت کا ذائقہ ہے، جسے مالِک کی اِجازت کے بغیر ذَبح کیا گیا ہے۔ یہ سُن کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے بھی ہاتھ روک لئے۔ دعوت کرنے والی صحابیہ کو بلایا گیا۔ پوچھا گیا: بکری کہاں سے آئی تھی؟ عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami