Share this link via
Personality Websites!
475319
9335
اب دیکھئے! اس وقت سائنسی دَور میں سب سے تیز رفتار چیز جس کو مانا گیا ہے، وہ روشنی ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں 3 لاکھ کلومیٹر سفر طے کرتی ہے، اب 95 کروڑ کلومیٹر سَفَر روشنی کتنی دَیر میں طَے کرے گی؟ اس کا اندازہ نکالیں تو تقریباً روشنی کو اتنا سفر کرنے میں 53 منٹ لگیں گے۔ پِھر واپسی بھی آنا ہو تو 106 منٹ ہو جائیں گے۔
اللہ اکبر! یہ ایک موٹا اندازہ ہے، دُنیا کی سب سے تیز رفتار چیز اگر لگاتار چلتی رہے تو جس سفر کو تقریباً 2گھنٹے میں طَے کر رہی ہے، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اتنا ہی نہیں بلکہ اِس سے کہیں زیادہ سَفَر آرام آرام سے کیا*راستے میں ٹھہرتے بھی رہے*نمازیں بھی پڑھتے رہے*کبھی نبیوں کی اِمامت کروا رہے ہیں*کبھی فرشتوں کی امامت کروا رہے ہیں*اس طرح آرام آرام سے سَفَر طے کیا، پِھر واپس بھی تشریف لائے مگر رفتار کا عالَم دیکھئے! ابھی بستر مبارک گرم ہے، دروازے کی کنڈی ہِل رہی ہے، یعنی دُنیا کی سب سے تیز رفتار چیز کو جس سفر میں 2 گھنٹے لگ رہے ہیں، آمنہ کے لالصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اس سے کہیں زیادہ سَفَر طَے کر کے چند سیکنڈ میں واپس بھی تشریف لے آئے ہیں۔
پِھر اسی جگہ جسمِ پاک کی لطافت پر بھی غور فرمائیے! ہم نے کئی مرتبہ سُن رکھا ہے، روایات میں یہ بات موجود ہے کہ مِعْراج کی رات جب پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے، حضرت جبریلِ امین عَلَیْہ ِالسَّلام رُک گئے، ارشاد فرمایا: جبریل! آگے کیوں نے بڑھتے؟ عرض کیا: لَوْ دَنَوْتُ اُنْمُلَةً لَاِحْتَرَقْتُ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! اگر میں ایک پَورے کے برابر بھی آگے بڑھا تو میں جھلس جاؤں گا،([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami