Share this link via
Personality Websites!
475316
9335
پیارے اسلامی بھائیو! محبوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطانصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی ایک شان اللہ پاک نے یہ بھی بیان فرمائی، ارشاد ہوتا ہے:
لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَ ﰳاۙ (۱) (پارہ:18 سورۂ فرقان:1)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تا کہ وہ تمام جہان والوں کو ڈر سُنانے والا ہو۔
اس آیتِ کریمہ سے ثابت ہوا کہ محبوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطانصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تمام جہانوں کے نبی ہیں، اس میں بھی شانِ مَحْبُوبِیّت کا اظہار ہے، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں: کام جتنا بڑا ہو، اُس کی ذِمَّہ داری بھی اُتنے ذیشان کو دی جاتی ہے، اللہ پاک نے سارے انبیائے کرام علیہمُ السَّلام کو ایک ایک قوم، ایک ایک خطّے کا نبی بنایا مگر محبوبِ ذیشانصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو یہ شان بخشی کہ جتنی مخلوقات ہیں، جتنے جہان ہیں، آپصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو سب کا نبی بنایا، اس سے پتا چلتا ہے کہ ایک خطّے اور تمام جہانوں میں جتنا فرق ہے، محبوبِ کریمصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان سارے نبیوں کی شان سے اتنی ہی زیادہ ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! امام فَخْرُ الدِّین رازی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے بڑی پیاری تحقیق فرمائی، لکھتے ہیں: (اگرچہ نبوت کسبی نہیں ہے، اعمال سے حاصِل نہیں کی جا سکتی، یہ خاص اللہ پاک کا انتخاب ہے، البتہ) رَبِّ کریم جنہیں نبوت کے لئے منتخب فرماتا ہے، یہ ضروری ہے کہ وہ روحانی طاقتوں میں بھی اور جسمانی طاقتوں میں بھی اپنی اُمّت سے اَرْفع و اعلیٰ ہوں، لہٰذا *انبیائے کرام علیہمُ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami