Share this link via
Personality Websites!
475313
9335
کر رہا ہوں) اللہ پاک نے*حضرت آدم عَلَیْہ ِالسَّلام سے کلام فرمایا، پردے میں فرمایا *حضرت نُوح عَلَیْہ ِالسَّلام پر وحی آئی، فرشتے کے ذریعے آئی*حضرت ابراہیم عَلَیْہ ِالسَّلام پر وحی آئی، فرشتے کے ذریعے آئی*حضرت موسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام سے کلام فرمایا، پردے میں فرمایا*حضرت عیسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام پر وحی آئی، فرشتے کے ذریعے سے آئی، مگر یہ مَحْبُوبِ ذیشانصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہیں کہ اللہ پاک نے معراج کی رات خاص تنہائی میں بُلا کر اپنا دیدار بھی کروا دیا، بےپردہ کلام کا شرف بھی عطا فرما دیا۔
اللہ پاک کے نبی حضرت عیسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام بہت بلند شانوں والے نبی ہیں، اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں بتایا، آپ کی یہ شان تھی کہ پیدائشی اندھے کو ہاتھ لگاتے تو آنکھوں کا نُور عطا کر دیتے تھے*کوڑھی کو چُھو لیتے تو حُسْن و جمال سے نواز دیتے تھے*مٹی سے بنے پرندوں کو پُھونک مارتے تو حقیقی پرندے بنا دیتے تھے*غیب کی خبریں بتایا کرتے تھے *مُردَوں کو زِندہ کر دیا کرتے تھے، ایسی بلند شان والے نبی تھے۔
جب آپ عَلَیْہ ِالسَّلام نے نبوت کا اِظْہار فرمایا اور ایسے عظیم معجزات دِکھانے شروع کئے تو کسی نے آپ سے پوچھا: اَنْتَ ہُوَ الْآتِیُ اَمْ نَتَرَجِّىْ آخَرَ یعنی آپ ایسے بڑے بڑے معجزات دِکھا رہے ہیں، کیا آپ ہی وہ آخرُ الزَّماں ہیں یا ہم آپ کے علاوہ کسی دوسرے کا انتظار کریں ؟
حضرت عیسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام نے جو جواب دیا، بڑی ایمان افروز بات ہے، فرمایا: نہیں...!! میں وہ مَحْبُوب نبی نہیں ہوں، میں تو ان کے آنے کی خوشخبری سُنانے آیا ہوں، البتہ! میں اللہ پاک کی عطا سے *اندھوں کو شفائیں*کوڑھیوں کو حُسْن و جمال *اور مُردَوں کو دوبارہ زندگی اس لئے دے رہا ہوں تاکہ لوگ مجھ پر یقین کریں اور سمجھ لیں کہ جب آمد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami