Share this link via
Personality Websites!
475142
9332
اللہ عنہ کو وہ شانیں عطا ہوئیں، جو کسی اور کو عطا نہ ہوئیں۔ علّامہ یُوسُف بن اِسْماعِیل نبہانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں:
اِنِّی خَدَمْتُ مِثَالَ نَعْلِ المُصْطَفٰے لِاَعِیْشَ فِی الدَّارَیْنِ تَحْتَ ظِلَالِہَا
سَعِدَ اِبْنُ مَسْعُوْدٍ بِخِدْمَۃِ نَعْلِہٖ وَ اَنَا السَّعِیْدُ بِخِدْمَتِیْ لِمِثَالِہَا([1])
ترجمہ: میں نقشِ نعلِ پاک کا خادِم ہوں، تاکہ میں دونوں جہان میں اِس نقشِ پاک کے سائے میں رہوں۔ جیسے حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ نَعْلَیْن شریف کی خِدْمت کر کے سَعَادتوں کی معراج کو پہنچ گئے، (اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!) میں نقشِ نعلِ پاک کی خِدْمت سے سعادت پا جاؤں گا۔
پیارے اسلامی بھائیو! اب دیکھیے اعلیٰ حضرت کا شعر؛
تمہارے ذرّے کے پَرْتَو سِتار ہائے فلک
یعنی اے پیارے آقا، محبوب مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! آپ کے دَرْ کے خادِم، آپ کے سچّے عاشقوں کی یہ شان ہے کہ *آسمانِ عِلْم و عَمَل ہو یا *آسمانِ عظمت و وِلایَت *آسمانِ عزّت و تقویٰ ہو یا *آسمانِ امامت و پیشوائی، آپ کے دَر کے خادِم، آپ کے سچّے عاشق ہر آسمان پر ستاروں کی مانند چمکتے دمکتے نظر آتے ہیں۔
نَعْلَیْن شریف سِلائی کرنے والے
حضرت اَبُو سعید خُدْرِی رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ محفلِ نُور سجی ہوئی تھی، رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کے درمیان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami