Share this link via
Personality Websites!
475141
9332
آپ دیکھیے! حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ کو کیسی بلند شانیں عطا ہوئی ہیں، سُوال یہ ہے کہ ان کو یہ شانیں ملیں کہاں سے؟ کیسے مِلیں؟ *نمازیں تو دیگر صحابہ بھی پڑھتے تھے *روزے تو دیگر صحابہ بھی رکھتے تھے*سارے ہی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نیک، پرہیزگار، متقی بلکہ اَہْلِ تقویٰ کے امام و پیشوا ہیں۔ تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ کو یہ خاص شانیں کیسے نصیب ہوئیں؟ جواب سنیے! حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ کو ایک خاص سعادت نصیب تھی، ایک خاص قسم کی خِدْمت آپ بجا لایا کرتے تھے، آپ کا لقب ہے: صَاحِبُ النَّعْلَیْنِ وَ الْوِسَادَۃِ یعنی نَعْلَیْن شریف اور تکیہ مبارَک اُٹھانے والے صحابی ۔ ([1])
پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جب بھی کہیں تشریف لے کر جاتے حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا تکیہ مبارَک اُٹھائے ہوئے ساتھ ساتھ خِدْمت میں حاضِر رہتے، جیسے ہی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کہیں تشریف رکھنے کا اِرادہ فرماتے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ آگے بڑھ کر گورے گورے، پیارے پیارے، عرش کی آنکھوں کے تارے مقدَّس، مبارَک پاؤں سے نَعْلَیْن شریف اُتارتے، اپنے پاس مَحْفُوظ کر لیتے، پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت مبارَک میں تکیہ پیش کرتے، پِھر جب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اُٹھنے اور کہیں تشریف لے جانے کا اِرادہ فرماتے تو آپ آگے بڑھ کر پاؤں مقدَّس میں نَعْلَیْن شریف پہنانے کی سَعَادت پاتے اور تکیہ اپنی حفاظت میں لے لیا کرتے تھے۔
سُبْحٰنَ اللہ!یہ وہ خِدْمت ہے، جس کی برکت سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami