Share this link via
Personality Websites!
475138
9332
سُورج ہے کہ یہ دُنیا بھر کو روشنی بانٹنے والا سُورج آپ کے نعلِ پاک کا مقابَلَہ تو کر ہی نہیں سکتا، ہاں! اس کی چمک دمک دیکھ کر، اس کا نُور دیکھ کر، اس کی روشنی دیکھ کر ذرا شُبہ سا ہوتا ہے کہ جیسے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی نعلِ پاک چمک رہی ہو۔
قرآنِ کریم کی روشنی میں نعلِ پاک کے فضائل
پیارے اسلامی بھائیو! آپ نَعْلَیْنِ شَرِیْفَیْن کی عزّت و عظمت کا اندازہ لگائیے! اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں مَٹِّی کے اُن ذَرَّوں کی قسم ارشاد فرمائی ہے، جو راہ چلتے وقت نَعْلَیْنِ شَرِیْفَیْن کے ساتھ لگ جایا کرتے تھے۔ جی ہاں! ارشاد ہوتا ہے:
لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۲) (پارہ:30، سورۂ بَلَد:1-2)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:مجھے اِس شہر کی قسم جبکہ تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔
یعنی اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! آپ کے شہرِ پاک کی قسم...!!
یہ قسم کیوں اُٹھائی گئی؟ مکّہ پاک کو یہ شان کیوں ملی کہ اللہ پاک نے اس شہر کی قسم ذِکْر فرمائی؟ *یہاں کعبہ ہے *یہاں صفا مروہ ہے *یہاں مِنیٰ ہے *یہاں حطیم ہے *یہاں مقامِ ابراہیم ہے۔ کیا اسی لیے یہ شرف ملا؟ نہیں...! نہیں...!! فرمایا: اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! ہمیں اس شہر کی قسم...!! اس لیے کہ اس شہر کی گلیوں میں آپ چلا کرتے ہیں، اس شہر کی مَٹِّی نے آپ کے نَعْلَیْنِ شَرِیْفَیْن کے بَوسے لیے ہیں۔
یاد فرما کر قسم حق نے زمینِ پاک کی خاکِ نعلِ مصطفےٰ کو تاجِ شاہاں کر دیا([1])
سُبْحٰنَ اللہ! جن ذَرَّوں کی قسم رَبِّ کائنات ارشاد فرمائے، بھلا اُن ذَرَّوں کی مثال
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami