Share this link via
Personality Websites!
475137
9332
نَعْلَیْن: دونوں پاؤں کے جُوتے۔
تَو آج ہم پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے مُقَدَّس نَعْلَین کا ذِکْر کریں گے۔
سُبْحٰنَ اللہ! کیا شانِ نَعْلَیْنِ مصطفےٰ ہے۔ اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں نا؛
تمہارے ذرّے کے پَرْتَو سِتَار ہائے فَلَک تمہارے نَعْل کی ناقِص مِثَل ضیائے فَلَک([1])
وضاحت: اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے عشق کا مقام دیکھیے! پَرْتَو کا معنیٰ ہوتا ہے: عکس۔ہم آئینے کے سامنے کوئی چِیز کریں تو اُس چیز کا عکس آئینے کے اندر نظر آتا ہے، آپ بھی جانتے ہیں کہ آئینے کے اندر جو نظر آ رہا ہے، وہ کوئی چِیز نہیں ہے، اَصْل چیز ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے، اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز کو ہٹائیں گے، آئینے سے عکس بھی ہٹ جائے گا۔ اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرما رہے ہیں: یہ جو آسمان پر ستارے نظر آتے ہیں، رات کو خُوب جگمگاتے ہیں، اندھیری رات کو حَسِین بنا دیتے ہیں، عشق کے لہجے میں کہہ رہے ہیں: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! یہ آسمان گویا ایک آئینہ ہے اور آپ کے مقدَّس پاؤں سے چُھو کر جو ذَرّے جھڑتے ہیں، آسمان میں اُن ذرّوں کا جو عکس بنتا ہے، وہ ستاروں کی شکل میں نظر آتا ہے۔
اور کتنی خوبصُورت بات کہی:
تمہارے نعل کی ناقص مثل ضیائے فلک
وضاحت:ضیائے فلک سے یہاں مراد: سُورج ہے۔ یعنی یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! آپ کی مثل ہونا تو بہت ہی دُور کی بات، آپ کے نَعْلِ پاک کی بھی کامِل و اَکمل مثل کائنات کی وُسعتوں میں کوئی چیز نہیں ہو سکتی، ہاں! نعلِ پاک کی ایک ناقِص سِی مثل یہ چمکتا، دمکتا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami