Share this link via
Personality Websites!
475150
9332
فرشتے مُقَرَّر ہوتے ہیں جو آنکھوں اور پورے وجود کو بچاتے ہیں اور وہ دِن رات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ بندہ گِرتے گِرتے سنبھل جاتا ہےیا تیز رفتار گاڑی آتی ہے اور ایک دَم کوئی ایسا کرشمہ ظاہر ہوتا ہے جس کی وجہ سے بندہ وہاں سے ہٹ جاتا ہے اور یوں وہ بچ جاتا ہے تو دراصل اُسے بچانے والے فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں اور یہ سب اللہ پاک کی عطا سے ہی ہوتا ہے۔ نقشِ نعل ِپاک بھی اللہ پاک کی عطا سے حفاظت کا سبب بنتا ہے لہٰذا اس میں وَسوسے پالنے کی ضَرورت نہیں ہے۔ ([1])
* حضرتِ علّامہ امام احمد تِلْمِسَانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے ایک قابِلِ اعتبار شخص نے اپنا واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک مَرتبہ مجھے ایک شدید مَرض لاحق ہوا جس کی وجہ سے قریب تھا کہ میں مر جاتا، اللہ پاک نے مجھے اِلہام فرمایا یعنی میرے دِل میں ڈالا کہ نقشِ نَعْلَیْنِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے وَسیلے سے دُعا کروں، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا تو اللہ پاک نے مجھے شِفا عطا فرما دی* اِسی طرح ایک اور حکایت نقل کرتے ہیں کہ مجھے بعض قابلِ اِعتماد اَحباب نے بتایا کہ انہوں نے کئی مَرتبہ ایسے ممالک کا سفر کیا جن کے راستوں پر ہر وقت چوروں ڈاکوؤں کا خوف رہتا تھا اور عام طور پر کوئی بھی مُسافر ان کی لوٹ مار سے بچ نہیں پاتا تھا مگر چونکہ ان کے پاس نقشِ نَعْلَیْنِ ہوتا تھا لہٰذا کئی مَرتبہ ان کا چوروں ڈاکوؤں سے سامنا ہوا لیکن اِس کی بَرکت سے اللہ پاک نے اُنہیں ان کے شر سے مَحْفُوظ رکھا۔([2])
علّامہ تِلْمِسَانی لکھتے ہیں: شیخ عبد الخالق مالکی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ ایک بزرگ ہوئے ہیں، فرماتے ہیں:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami