Share this link via
Personality Websites!
475145
9332
اگرچہ چھوٹی تھی مگر عشق میں درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے تھے، ان کی عادَت تھی کہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے رستے میں بیٹھ جاتے، جب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مسجد میں جاتے ہوئے وہاں سے گزرتے تو پیچھے پیچھے چَلْ پڑتے۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مسجد پہنچ کر جب اپنے نَعْلَیْن شریف اُتارتے تو یہ فورًا اُنہیں اُٹھاتے، اپنے کپڑوں سے صاف کرتے اور اپنے پاس رکھ لیتے، جب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم واپس تشریف لے جانے لگتے تو اپنے ہاتھوں سے نَعْلَیْن شریف پیش کرتے۔
چند دِن تک ایسے ہی ہوتا رہا، آخِر دریائے کرم جوش پر آیا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے پُوچھا: بیٹا! تم کون ہو؟ عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! اَنْصار میں سے ہوں؟ فرمایا: نَعْلَیْن شریف کی ایسی خِدْمت کا کس نے کہا ہے؟ عرض کیا: مجھے کسی نے بھی نہیں کہا، بَس دِل میں محبّت جاگی کہ یُوں خِدْمت کر کے آپ کو خُوشی پہنچاؤں، لہٰذا خُوشی پہنچانے کی سَعَادت پا رہا ہوں۔ یہ سُن کر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھا دئیے اور دُعا کی: اے اللہ پاک! اس بچے نے مجھے خُوش کرنے کی کوشش کی، اسے دُنیا اور آخرت کی خُوشیاں عطا فرما دے۔ ([1])
جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضور تو پِھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں([2])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! نَعْلَیْنِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی بھی کیا نِرالی شان ہے، جو چند روز کے لیے ہی ان کی خِدْمت کی سعادت پا لے، دونوں جہان کی خوشیاں سمیٹ لیتا ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami