Share this link via
Personality Websites!
475143
9332
تشریف فرما تھے اور بات آیندہ آنے والے وقتوں کی شروع ہو گئی۔
یہ بھی بڑے کمال کی بات ہے، بعض دفعہ شیطان عِلْمِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے مُتَعَلِّق دِلوں میں وسوسے ڈال رہا ہوتا ہے، آپ اَحادِیث پڑھیے! پتا چلے گا کہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی محافِل میں بہت مرتبہ مستقبل کے تذکرے ہوتے تھے اور آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم آیندہ آنے والے وقتوں کے حالات ایسے بتایا کرتے تھے، جیسے اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرما رہے ہوں۔
خیر! محفلِ نُور سجی تھی، آیندہ آنے والے وقتوں کی بات شروع ہوئی، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جیسے قرآنِ کریم کے نُزول کے حوالے سے (یعنی لوگوں کو یہ منوانے کے لیے کہ قرآن واقعی اللہ پاک کا کلام ہے) مجھے جنگیں کرنی پڑیں، بہت کوشش و محنت کرنی پڑی، ایسے ہی ایک وقت آئے گا، ایک شخص قرآنِ کریم کی تفسیر و تشریح اور اس کے دُرُست معانی کے حوالے سے جنگیں کرے گا۔
اِس محفل میں حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ حاضِر تھے، آپ کھڑے ہوئے، عرض کیا: اَنَا ہُوَ یَارَسُوْلَ اللہ؟یعنی یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! کیا وہ شخص میں ہوں؟ فرمایا: نہیں۔ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کھڑے ہوئے، عرض کیا: کیا وہ میں ہوں؟ فرمایا: نہیں، تم بھی نہیں ہو۔ بلکہ
وَ لٰکِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ
ترجمہ: یہ وہ شخص ہے جو اس وقت میرے نَعْلَیْن شریف کو سِلائی لگا رہا ہے۔
حضرت اَبُو سعید خُدْرِی رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّمنے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami