Share this link via
Personality Websites!
آئے گا۔ پتا چلا؛ روشنی ٹھوس چیز کو کراس نہیں کر سکتی۔ کمرے کے اندر کی روشنی چاہے جتنی بھی ہو، دِیوار سے پار اندھیرے کو ختم نہیں کر سکتی ۔
سوچنے کی بات ہے؛ سیدہ آمنہ رَضِیَ اللہ عنہا کا گھر مبارَک مکّہ پاک میں، کعبہ شریف کے قریب تھا اور مُلْکِ شام مکہ پاک سے تقریباً 2 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، درمیان میں اُونچی اُونچی عمارتیں بھی ہیں، بڑے بڑے پہاڑ بھی ہیں، یہ کیسا باکمال نُور تھا، چمکا مکّہ پاک میں ہے مگر اِس نُورِ پاک کی روشنی عمارتوں کو بھی کراس کر رہی ہے، پہاڑوں کو بھی چیرتی ہوئی مُلْکِ شام تک پہنچتی ہے اور سیدہ آمنہ رَضِیَ اللہ عنہا اِس نُورِ پاک کی برکت سے شام کے محلّات دیکھ رہی ہیں۔ پتا چلا؛ نُورِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم وہ نُور ہے جو اندھیروں کو چمکاتا اور آنکھوں کو ایسی روشنی بخشتا ہے کہ نگاہیں ہزاروں کلومیٹر تک اَثَر کر جاتی ہیں۔
اللہ پاک کے آخری نبی، مکی مدنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نُور بلکہ قاسِمِ نُور (یعنی نُور بانٹنے والے) ہیں۔صحابئ رسول حضرت کعب بن زُہیر رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: اِنَّ الرَّسُوْلَ لَنُوْرٌ یُسْتَضَاُ بِہٖ بےشک رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ایسے نُور ہیں جن سے روشنی حاصِل کی جاتی ہے۔([1])
حضرت اُسید بن ابو اَیَّاس رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: نُور والے آقا، رسولِ خُدا، اَحْمَدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایک بار میرے چہرے اور سینے پر اپنا پُرنُور ہاتھ شریف پھیر دیا، اس کی برکت یہ ظاہِر ہوئی کہ میں جب بھی کسی اندھیرے گھر میں داخِل ہوتا وہ گھر روشن ہو جاتا۔([2])
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے مرا دِل بھی چمکا دے چمکانے والے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami