Share this link via
Personality Websites!
کانور ہے۔([1])
ذَرَّہ ذَرَّہ جگمگایا ہر طرف آیا نِکھار گویا ساری ہی فضا کو نُور میں نہلایا ہے
نُور والا آیا ہے ہاں! نُور لے کر آیا ہے سارے عالَم میں یہ دیکھو نُور کیسا چھایا ہے([2])
نُور پھیلا، اُجالا ہی اُجالا ہو گیا
پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے دادا جان حضرت عبد المطلب رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں حطیمِ کعبہ (یعنی دِیْوارِ کعبہ کے بالکل ساتھ کعبہ شریف ہی کے ایک حصّے) میں سویا ہوا تھا، میں نے ایک خواب دیکھا، جس سے میں بہت ڈر گیا۔ چنانچہ میں خوابوں کی تعبیر بتانے والے کے پاس گیا، میں قوم کا سردار تھا، خواب کی تعبیر بتانے والا مجھے جانتا تھا، جب اُس نے میرا چہرہ دیکھا تو کہا: اے سردار! کیا بات ہے؟ آج میں آپ کا رنگ بدلا دیکھ رہا ہوں؟ میں نے کہا: رات میں نے خواب دیکھا؛ گویا ایک درخت ہے، وہ بلند ہوتا ہوتا آسمان تک پہنچ گیا، اُس کی ٹہنیاں مشرق و مغرب میں پھیل گئیں، وہ درخت انتہائی نُورانی تھا، اتنا نُورانی کہ سُورج سے 70 گُنَا زیادہ روشن تھا۔ پِھر میں نے دیکھا؛ عرب و عجم سب اُس کے حُضُور جھک گئے، اُس کا نُور ہر ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔
فرماتے ہیں: میں خواب سُنا رہا تھا اور تعبیر بتانے والے کا رنگ تبدیل ہوتا چلا جا رہا تھا۔ اُس نے پُورا خواب سُننے کے بعد کہا: اے سردار! اگر آپ نے واقعی یہ خواب دیکھا ہے تو سُن لیجیے! آپ کی اَوْلاد میں ایک ہستی ہوں گے، جو مشرق و مغرب کے مالِک ہوں گے اور لوگ ان کے دِین کے پیروکار بن جائیں گے۔([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami