Share this link via
Personality Websites!
نُور ہیں، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نُور لے کر تشریف لائے، آپ کی آمد کی بَرکت سے دُنیا بھر میں اُجالا ہی اُجالا پھیل گیا۔ پارہ:6، سورۂ مائِدہ، آیت: 15 میں ارشاد ہوتا ہے:
قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵)(پارہ:6، سورۂ مائدہ:15)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آگیا اور ایک روشن کتاب۔
اِس آیتِ کریمہ میں لفظِ نُور سے کیا مُراد ہے، اِس بارے میں *امام محمد بن جَرِیْر طَبَرِی *امام قُرْطَبِی*امام بَغْوِی *امام جَلَال ُالدِّیْن سَیُوْطِی*امام فخر الدین رَازِی *علّامہ احمد صَاوِی *علّامہ مُلّا علی قاری *علّامہ محمود آلُوسی رَحمۃُ اللہ علیہم اور بہت سارے مُفَسِّرِینِ کرام فرماتے ہیں: اس نُور سے نُور والے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم مراد ہیں۔([1])
کسی جا ہے طٰہٰ و یٰسٓ کہیں پر لقب ہے سِراجاً مُّنِیْرا تمہارا
کیا تم کو نُورِ مُجَّسَم خُدا نے زمیں پر نہیں پڑتا سایہ تمہارا([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
مولیٰ کس کے نُور نے ہمیں ڈھانپ لیا؟
روایت میں ہے: اللہ پاک نے جب ہمارے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے نُور کو پیدا فرمایا تَو(اُس نور سے بقیہ انبیائے کرام علیہم السَّلام کے نور کو پیدا فرمانے کے بعد ) اُسے حکم دیا کہ تمام انبیائے کرام کے نُور کو دیکھو، پھر اللہ پاک نے تمام انبیاء کے نُور کو ہمارے نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے نُور سے ڈھانپ دیا۔ انہوں نے عرض کی: مولیٰ! کس کے نُور نے ہمیں ڈھانپ لیا؟ اللہ پاک نے فرمایا: ہٰذَا نُورُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہ یعنی یہ مُحَمَّد بن عبد اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami