Share this link via
Personality Websites!
مہلت دی جاتی ہے، اگر تعبیر بتا دی تو ٹھیک، ورنہ تمہارے سَر قلم کر دئیے جائیں گے۔
بڑی پریشانی ہو گئی، سویا بادشاہ تھا، خواب اُس نے دیکھا، مُعَبِّرِین کی جانے بلا کہ اُس نے کیا دیکھا ہے مگر بادشاہ تو پِھر بادشاہ ہوتے ہیں، ان کے سامنے کون دَم مارے۔ مُعَبِّرِین پریشان ہو گئے کہ آج تو گئے کام سے۔
یہ خبر اللہ پاک کے نبی حضرت دانیال علیہ السَّلام تک پہنچی، آپ نے فرمایا: میں خواب کی تعبیر بتاؤں گا۔
اب دیکھیے! خواب وہ چیز ہے کہ جو سویا ہے، وہی دیکھتا ہے، آدمی سوئے ہوئے کے سرہانے بیٹھا ہو تب بھی نہیں جان سکتا کہ سونے والا کیا خواب دیکھ رہا ہے۔ مگر انبیائے کرام علیہم السَّلام کی شان نِرالی ہے، اللہ پاک اِنہیں صِرْف دِیوار کے پیچھے کا نہیں، سَوئی ہوئی آنکھ کے پیچھے... یعنی عالَمِ خواب کا بھی عِلْم عطا فرما دیتا ہے۔ سُبْحٰنَ اللہ!
خیر! حضرت دانیال علیہ السَّلام بُخْت نَصَّر کے دربار میں تشریف لائے، فرمایا: بادشاہ...!! تمہارے خواب کی تعبیر میں بتاؤں گا۔ کہا: آپ کو شرط مَعْلُوم ہے؟ خواب بھی آپ نے بتانا ہے، تعبیر بھی آپ نے بتانی ہے۔ فرمایا: ہاں! ہاں! خواب بھی میں ہی بتاؤں گا۔ بادشاہ بولا: اچھا تو ٹھیک ہے۔ بتائیے! میں نے کیا خواب دیکھا ہے؟
فرمایا: تُو نے ایک بہت بڑا مُجَسَّمَہ دیکھا، جس کے پاؤں زمین پر اور سَر آسمان تک پہنچ رہا تھا، اُس کا اُوپَر کا حصّہ سونے کا، پیٹ چاندی کا، نِچلا حصّہ تانبے کا اور پاؤں مٹی کے بنے ہوئے تھے۔ پِھر اچانک آسمان سے ایک بڑا سا پتھر گِرا، جس نے اُس بُت کو ریزہ ریزہ بالکل باریک ذَرَّوں میں ایسے پیس دیا جیسے ریت ہوتی ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami