Share this link via
Personality Websites!
دورِ حاضِر کی عظیم علمی و روحانی شخصیت امیرِ اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطار قادری دَامَت بَرَکَاتُہم الْعَالِیَہ نے ہمیں یہ مقصد دیا ہے کہ ”مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصْلاح کی کوشش کرنی ہے۔اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!دعوتِ اسلامی والے عاشقانِ رسول اس مقصد کی تکمیل کے لیے گاؤں دیہات، شہر کے اطراف اور شہر کے ایسے علاقے جہاں دینی کام کمزور ہیں وہاں جا کر نیکی کی دعوت عام کرتے ہیں *کسی بھی دن خصوصاً جمعہ یا اتوار والے دِن اسلامی بھائی ان علاقوں میں جاتے ہیں *وہاں مسجد میں نفل اعتکاف ہوتا ہے *نیکی کی دعوت عام کی جاتی ہے *آپ بھی تشریف لائیں! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! *عِلْمِ دِین سیکھنے کو ملے گا *نیکی کی دعوت دینے کا ثواب نصیب ہو گا *راہِ خُدا میں نکلنے کی سَعَادت ملے گی *حدیثِ پاک کا خُلاصہ ہے: جو قدم راہِ خُدا میں خاک آلود ہوں، انہیں جہنّم کی آگ نہیں چھوئے گی۔([1]) *جو شخص اللہ پاک کی رضا کے لیے اپنے مسلمان بھائیوں کے پاس شہر کے مُضافات میں جائے، حدیثِ پاک میں اس کے لیے جنّت کی بشارت آئی ہے۔([2]) آئیے ترغیب کے لیے آپ کو ایک مدنی بہار سناتا ہوں۔
ہم تو بس دعوتِ اسلامی کے ہو کر رہ گئے
ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے منسلک ہونے سے پہلے عام نوجوانوں کی طرح غفلت کی زِنْدَگی بَسَر کر رہا تھا، میری قسمت کا ستارہ یوں چمکا کہ ایک دن ہمارے علاقے میں کچھ اسلامی بھائی ایک دن راہِ خد میں گزارنے کے لیے آئے، ان میں سے ایک اِسْلَامی بھائی نے مجھے اس دینی کام میں شامِل ہونے کی دَعْوَت دی، لِہٰذا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami