Share this link via
Personality Websites!
بغدادی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: محفلِ میلاد شریف میں شرکت کرنے اور اِس محفل کی عزّت و تکریم کرنے سے ایمان مضبوط ہوتا ہے۔([1])*حضرت سَرِی سقطی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا: جو محفلِ میلاد میں جانے کا ارادہ کرے، وہ اَصْل میں جنّت کے باغوں میں جانے کا ارادہ کرتا ہے، کیونکہ محفلِ میلاد صِرْف و صِرْف محبّتِ رسول کی وجہ سے ہی سجائی جاتی ہے اور رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے: مَنْ اَحَبَّنِی کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ جو مجھ سے محبت کرے، وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔([2])
آئے تاجدارِ رسالت مرحبا! صد مرحبا! آئے جہاں میں جانِ رحمت مرحبا! صد مرحبا!
صاحبِ عظمت و شان و شوکت مرحبا! صد مرحبا! سب سے بڑی اللہ کی نعمت مرحبا! صد مرحبا!
آمنہ چمکی تیری قسمت مرحبا! صد مرحبا! گود میں آئی ربّ کی رحمت مرحبا! صد مرحبا!
علامہ سہیلی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں: شیطان 4 مرتبہ چِلّا کر رویا؛ (1): جب مَلْعُوْن ہوا (یعنی بارگاہِ الٰہی سے دھتکارا گیا) (2): جب زمین پر اُترا (3): سُوْرَۂِ فَاتِحَة نازِل ہونے کے وَقْت اور (4): رسولِ اکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی وِلادتِ باسعادت کے وَقْت۔([3]) حضرت عِکرمہ رَضِیَ اللہ عنہ سے رِوَایت ہے: رَحْمَةٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی وِلادت ہوئی تو شیطان نے کہا: رات ایک بچہ پیدا ہوا جو ہمارا کام بگاڑ دے گا۔ اس کے چیلے چمچے بولے: تم ابھی جاؤ اور اسے نقصان پہنچا کر اس کے کام میں رکاوٹ ڈال دو! اس پر شیطان نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami