Share this link via
Personality Websites!
مسلمان شروع ہی سے اپنے زمانے کے تقاضوں کے مُطَابِق یہ نیک کام کرتے آئے ہیں۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے بھی ذِکْرِ میلاد کی محافِل سجائی ہیں۔ حُصُولِ برکت کے لیے صِرْف ایک واقعہ سن لیتے ہیں۔ روایات میں ہے: رسولِ انور، شاہِ بحر و بر صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لائے، اس وَقْت حضرت عباس بن عبد المطلب رَضِیَ اللہ عنہما نے ذِکْرِ میلاد پر اپنے لکھے ہوئے چند اشعار پڑھنے کی اجازت چاہی، سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اجازت عطا فرمائی تو آپ نے اپنے قصیدۂ مِیْلاد کے اشعار پڑھے، ان میں سے چند اشعار یہ ہیں:
قَبْلَهَا طِبْتَ فِي الظِّلَالِ وَفِي مُسْتَوْدَعٍ حَيْثُ يَخْصِفُ الْوَرِقُ
آپ ولادت سے پہلے سایوں میں تھے یعنی جنت کے اندر، حضرت آدم علیہ السَّلام کی پشت میں
ثُمَّ هَبَطْتَ الْبِلَادَ لَابَشَرٌ اَنْتَ وَلَا مُضْغَةٌ وَلَا عَلَقُ
پھر پشتِ آدم ہی میں زمین پر اترے، تب آپ نہ انسانی صُورت تھے، نہ مُضْغَہ نہ عَلَقَہ(یہ حمل کے ابتدائی دنوں میں بچے کی 2 حالتوں کے نام ہیں)
بَلْ نُطْفَةٌ تَرْكَبُ السَّفِينَ وَقَدْ اَلْجَمَ نَسْرًا وَأَهْلَهُ الْغَرَقُ
آپ پشتِ نوح میں کشتی پر سُوار ہوئے، جب طوفان نے کُفّار کے جھوٹے خُدا اور اس کے بچاریوں کو ڈبو دیا۔
تُنْقَلُ مِنْ صَالبٍ إِلَى رَحِمٍ إِذَا مَضَى عَالَمٌ بَدَا طَبَقُ
آپ پاک پشتوں سے رحموں کی طرف منتقل ہوتے رہے، ایک طبقے کے بعد دوسرا طبقہ ظاہر ہوا
وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ وَضَاءَتْ بِنُورِكَ الْأُفُقُ
آپ کی ولادت کے وقت زمین روشن ہوئی، آسمان آپ کے نور سے چمک اُٹھا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami