Share this link via
Personality Websites!
اللہ اکبر! *وہ قوم جو ہر طرح سے پستیوں کا شکار تھی *دُنیا میں اندھیر اہی اندھیرا چھایا ہوا تھا*شرک عام تھا *تَوْحِیْد کے سب سے بڑے مرکز یعنی کعبہ شریف کو بھی شِرْک کی گندگی سے آلودہ کیا جا چکا تھا *زندہ انسانوں کو کاٹ کر پتھروں کے آگے چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے *جانور بھی اپنی اَوْلاد کی حفاظت کرتے ہیں مگر اُس دور کا انسان اتنا سخت دِل تھا کہ اپنی ہی بیٹیوں کو لوگ زندہ دفن کر دیتے تھے *بدکاری عام تھی *شراب، جُوا، چوری چکاری، لوٹ مار کی کثرت تھی *چھوٹی چھوٹی باتوں پر کبھی لڑائی چِھڑتی تو سالوں سال تک جنگ جاری رہتی تھی*ایک ذرا سی بات پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں کو قتل کر دیا جاتا تھا *بعض مُعَاشروں میں یہ رَسْم بھی تھی کہ بادشاہ مرتا تو اُس کی لاش کو بڑی غار میں رکھتے، ساتھ لذیز کھانے رکھتے اور کئی ایک زندہ غُلاموں اور کنیزوں کو بھی غار میں چھوڑ کر غار کا دروازہ بند کر دیا کرتے تھے۔
آپ اندازہ کیجیےکہ اُن زندہ غُلاموں کا جب دَم گھٹتا ہو گا، بھوک پیاس سے تڑپتے ہوں گے تو اُن پر کیا گزرتی ہو گی مگر افسوس! دُنیا ظُلْم و سِتَم کے اندھیروں میں گِھر چکی تھی، احساسات مَر چکے تھے۔
پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی شان دیکھیے! آپ نے ایسی قوم کو اپنی پُرنُور ادائیں دکھا کر، پیارے پیارے اَخْلاق سے گرویدہ بنا کر اُنہیں عالِم بھی بنا دیا* باطِن سَنْوار کر دِل بھی روشن کر دئیے! * اُنہیں کتاب بھی سکھائی* حکمت بھی سکھائی * اور اِس چاروں طرف سے پستیوں میں گِھری ہوئی قوم کو قیامت تک آنے والوں کا امام اور پیشوا بنا دیا۔
ڈاکٹر اِقبال نے کہا:
وہ دانائے سُبُل، ختمِ رُسُل، مولائے کُل جس نے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami