Share this link via
Personality Websites!
وضاحت:اے پیارے مَحْبُوب ! اے عرب کے چاند صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! میں آپ کے صدقے جاؤں، آپ نے اِعْلانِ نبوّت تو کیا فرمایا، اسلام کی برکت سے پُوری دُنیا روشن ہو گئی۔
ایک مقام پر اللہ پاک نے فرمایا:
لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۱۶۴) (پارہ:4، سورۂ آلِ عمران:164)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: بیشک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا اِحسان فرمایا جب اُن میں ایک رسول مَبْعُوث فرمایا جو اُنہی میں سے ہے۔ وہ اُن کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اوراُنہیں پاک کرتا ہے اور اُنہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ یہ لوگ اِس سے پہلے یقیناًکھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔
یہ آیتِ کریمہ ہم نے پہلے بھی کئی بار سُنی ہو گی، میں جس طرف تَوَجُّہ دِلانا چاہتا ہوں، وہ اس آیتِ کریمہ کا آخری حصّہ ہے، فرمایا:
وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۱۶۴) (پارہ:4، سورۂ آلِ عمران:164)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اگرچہ یہ لوگ اِس سے پہلے یقیناًکھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔
یعنی حُضُورِ اکرم، نورِ مُجَّسَم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری سے پہلے پُوری دُنیا خصوصاً اَہْلِ عرب * عقائد*اَعْمال*اَخْلاق و کردار وغیرہ ہر طرح کی گمراہیوں اور اندھیروں میں کھوئی ہوئی تھی ۔ ([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami