Share this link via
Personality Websites!
ایک دوسرے مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے:
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِ جَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ﳔ (پارہ13،سورۂ ابراہیم:1)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف نکالو۔
یعنی اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! دُنیا اندھیرے میں ڈُوبی ہوئی ہے*عقائد کے اندھیرے ہیں*نظریات کے اندھیرے ہیں*بُرے اَخْلاق اور گندی عادات کے اندھیرے ہیں*غرض؛ ایسا اندھیرا چھا گیا کہ انسان جو اَشْرَفُ المخلوقات ہے، یہ اپنی ہی پہچان نہیں رکھتا*کبھی سُورج کو سجدہ کرتا ہے*کبھی درختوں پتھروں کو اپنا خُدا مان لیتا ہے، اے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم !ہم نے قرآنِ کریم کا نُور آپ پر نازِل فرمایا، آپ لوگوں کو قرآنِ کریم سُنا کر، قرآنِ کریم پڑھا کر، قرآنِ کریم کی نُورانی تعلیمات کو عام فرما کر لوگوں کو اندھیروں سے نُور کی طرف نِکال لائیے!
مَعْلُوم ہوا؛* قرآن نُور ہے*مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جو خُود بھی نُور ہیں، نُورِ قرآن کو دُنیا میں بانٹنے کے لیے تشریف لائے ہیں*اِس نُور کے ذریعے سے دِل و دماغ کو روشن کرنے*اَخْلاق و کردار کو چمکانے*مَٹّی کے انسانوں کو نُورانی بنانے کے لیے تشریف لائے ہیں۔
اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہکے بھائی جان مولانا حَسَن رضا خان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:
کُھلِیں اسلام کی آنکھیں، ہوا سارا جہاں روشن عرب کے چاند صدقے! کیا ہی کہنا تیری طلعت کا([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami