Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! جب یہ دونوں شخص آپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے، یعنی ایک خواب سُنا رہے تھے، دوسرے سن رہے تھے، اُس وقت عظیم تابعی بزرگ حضرت کعبُ الْاَحْبار رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ (جو تورات شریف کے بڑے ماہِر عالِم تھے)، (اُن) کے کانوں میں اِن باتوں کی آواز گئی، آپ نے فرمایا: یہ تم کیا باتیں کر رہے رہو(یعنی یہ جو تم بتا رہے ہو یہ بات تم نے کہیں سے پڑھی، سُنی ہے)؟ خواب بتانے والے نے کہا: نہیں...! یہ کوئی پڑھی سُنی بات نہیں ہے بلکہ یہ تو میں نے رات کو خواب دیکھا تھا، وہ بیان کر رہا ہوں۔ یہ سُن کر حضرت کعبُ الاَحْبَار رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بولے:وَالَّذِیْ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ اِنَّہَا فِیْ کِتَابِ اللہ کَمَا رَاَیْتَ یعنی اُس رَبِّ کائنات کی قسم! جس نے مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو سچّا نبی بنا کر بھیجا ہے! تم نے تو یہ خواب دیکھا ہے مگر میں نے بالکل یہی بات اللہ پاک کی نازِل کی ہوئی پچھلی آسمانی کتاب میں پڑھی ہے۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان ہے ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی...!! اِس سے مَعْلُوم ہوا؛ ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نُور بھی ہیں، صاحِبِ نُور بھی ہیں اور حضرت کعبُ الْاَحْبار رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی وضاحت کے مُطَابِق اگلی آسمانی کتابوں میں بھی یہی لکھا تھا کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم وہ مُبارَک نُور ہیں کہ جن کے ذریعے سے پُوری زمین نُور سے جگمگا اُٹھی ہے۔
چار جانِب روشنی ہے سب سماں ہے نُور نور حق نے پیدا آج اپنے پیارے کو فرمایا ہے
آگے پیچھے، دائیں بائیں نور ہے چاروں طرف آ گیا ہے نُور والا، نُور والا آیا ہے([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami