Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ سختی سے علم پر عمل کرنے والے اور سنّتوں کے عامل تھے۔ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نہ صرف دوسروں کو سنّتوں کی تعلیم ارشاد فرماتے بلکہ خود بھی ہر ہر کام میں سُنّت اپنانے کی بھرپُور کوشش فرمایا کرتے تھے اور کس کس انداز میں، کیسے کیسے حالات میں سُنتوں پر عَمَل فرماتے تھے؟
سیّد ایوب علی صاحب رحمۃُ اللہ علیہ کا بیان ہے: ایک دِن فجر کی نماز کا وقت تھا، لوگ جماعت کے انتظار میں بیٹھے تھے، خِلافِ عادَت آج اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کو آنے میں کچھ دَیر ہو گئی، لوگ انتظار میں تھے۔ اِسی دوران آپ رحمۃُ اللہ علیہ جلدی جلدی تشریف لائے۔ اُس وقت مولانا قَناعت علی مجھ سے کہنے لگے: اِس تنگ وقت میں دیکھنا یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ سیدھا قدم مَسجِد میں پہلے رکھتے ہیں یا اُلٹا...!! اب ہماری نظریں آپ کے پاؤں مُبارَک کی طرف تھیں۔ سُبْحٰنَ اللہ!قربان جائیے! اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی سُنّتوں سے محبّت کیسی نِرالی تھی* مَسجِد کے زینے پر جس وقت قدم مبارَک پہنچتا ہے تو سیدھا *مَسجِد کے فرش پر قدم پہنچتا ہے تو بھی سیدھا*فرش کے ایک حصّے سے دوسرے حصّے پر قدم پہنچتا ہے تو بھی سیدھا*آگے صحنِ مسجد میں ایک صف بچھی تھی، اس پر قدم پہنچتا ہے تو بھی سیدھا اور اسی پر بَس نہیں*ہر صَف پر پہلے سیدھا قدم ہی رکھا*یہاں تک کہ مِحْرَاب میں تشریف لائے*مصلّے پر بھی قدم رکھا تو پہلے سیدھا ہی قدم رکھا۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! سُنّت یہ ہے کہ مَسجِد میں جب داخِل ہوں تو پہلے سیدھا قدم اَندر رکھیں، اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی سُنّت سے محبّت دیکھیے کہ کیسی ہی جلدی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami