Share this link via
Personality Websites!
البتہ! خود اِن پر عَمَل کرنا، اِس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۳) (پارہ:28، سورۂ صف:3)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اللہ کے نزدیک یہ بڑی سخت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو۔
مَعْلُوم ہوا؛ دوسروں کو وعظ کرنا، اچھی اچھی باتیں بتانا، خُود عَمَل نہ کرنا، انتہائی سخت اور شدید بات ہے، اللہ پاک کو ہر گز یہ بات پسند نہیں ہے۔
ایسے واعظ کہ جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتے ان کے بارے میں رسولِ اکرم، نورِ مُجَّسَم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: مِعْراج کی رات میں نے دیکھا، کچھ لوگوں کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے۔ جبریلِ امین علیہ السَّلام نے بتایا: یارسولَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! یہ آپ کی اُمّت کے واعِظ (یعنی نصیحت کرنے والے) ہیں، یہ وہ باتیں کہتے تھے، جن پر خُود عَمَل نہیں کرتے تھے۔ ([1])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! یہ کتنا سخت تَرِین عذاب ہے۔ ہم خُود پر غور کر لیں، کتنے ایسے ہیں جو دوسروں کو نصیحتیں بہت پیاری پیاری کرتے ہیں، زبان ہے نا؛ اِس کا چَسْکا بہت لَذِیذ ہوتا ہے، جب یہ چلتی ہے تو مزہ آ رہا ہوتا ہے مگر عَمَل...!! آہ! عَمَل تو نفس پر بھاری ہے، کِیا ہی نہیں جاتا۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی سیرت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اچھی باتیں دوسروں کو بتانے، پہنچانے تک ہی نہ رہیں بلکہ خُود عَمَل کی بھی عادت بنایا کریں۔
عمل کا ہو جذبہ عطا یا الٰہی! گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی!([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami