Share this link via
Personality Websites!
مزید فرمایا: اگر اَرَنْڈِی کا تیل ڈال کر ہی لالٹین جلانی ہے تو اس کا ایک طریقہ ہے، لالٹین کے پاس کھڑے ہو جائیں اور آواز لگاتے رہیں: اس میں اَرَنْڈِی کا تیل ہے، اس میں اَرَنْڈِی کا تیل ہے، تاکہ گزرنے والوں کو بدگُمانی نہ ہو۔ حاجی کفایتُ اللہ صاحِب نے یہ بات سُنی تو حکم پر عَمَل کرتے ہوئے فورًا لالٹین بند کر دِی۔ ([1])
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اُس سے سِوا تم ہو
قَسیمِ جامِ عِرفاں اے شَہ احمد رضا تم ہو
عیاں ہے شانِ صدیقی تمہاری شانِ تَقْوٰی سے
کہوں اَتْقٰی نہ کیوں کر جبکہ خَیْرُالْاَتْقِیَاء تم ہو
وضاحت:اے میرے پیرو مرشد! آپ کی شان میں جو بھی کہو، آپ کی شان اُس سے کہیں بلند ہے، آپ تو اللہ پاک کی معرفت کے جام تقسیم کرنے والے ہیں، آپ کا تقویٰ دیکھ کر حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہ عنہکی یاد تازہ ہو جاتی ہے، آپ کو کیوں سب سے بڑھ کر متقی و پرہیزگار نہ کہوں؟آپ اس دور کے سب سے بڑے متقی ہیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! سیرتِ رضا کے اِس تقویٰ سے بھرپُور، دِینی اِحتیاطوں سے لَبْریز پیارے پیارے واقعہ سے یہ سیکھنے کو ملا کہ شریعت، دِین، عِلْم کی باتیں صِرْف دوسروں کو بتانے کے لیے نہیں بلکہ خُود عَمَل کرنے کے لیے بھی ہیں، یعنی دِینی باتیں دوسروں کو بتانا یقیناً ضروری ہے،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami