Share this link via
Personality Websites!
آئے ہیں، ان کو تو صِرْف نسبت کی ضرورت تھی۔([1])
ایک سچا عاشقِ نورِ مُجَسَّم بولیے اُن کو اُن کے عہد کا سالارِ اعظم بولیے
جن سے ہوں آباد علم و آگہی کی بستیاں ہیں جنم لیتی کئی صدیوں میں ایسی ہستیاں
*-*-*-*
خائفِ کبریا ہیں رضا، ہیں رضا عاشقِ مصطفےٰ ہیں رضا، ہیں رضا
صوفیِ باصفا ہیں رضا، ہیں رضا صاحبِ اِتِّقا ہیں رضا، ہیں رضا
عاشقِ اولیا ہیں رضا، ہیں رضا زینتِ اَتْقِیا ہیں رضا،ہیں رضا([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! عالِم ہونا بڑی شان کی بات ہے مگر عالِم کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ باعمل ہو۔ پیارے آقا، میٹھے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:هِمَّةُ العُلَماءِ الرِّعايَةُیعنی اہلِ علم کی یہ ذمہ داری ہے کہ (اُن کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو بلکہ )وہ اپنے علم پر عمل کریں۔([3]) الحمد للہ!اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ ایک باعمل عالِم دین تھے۔
آئیے! میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں:اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کے دور میں بجلی زیادہ عام نہیں تھی، لوگ چراغ اور لالٹین (Lantern) وغیرہ جلایا کرتے تھے۔ لالٹین کو آسانی سے سمجھنے کے لیے یُوں کہہ لیجیے کہ یہ ایک چھوٹا سا لیمپ ہوتا تھا، جس میں تیل ڈال کر جلایا کرتے تھے۔ لوگوں کا معمول یہ تھا کہ لالٹین میں مٹّی کا تیل جلاتے تھے، جس کے جلنے سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami