Share this link via
Personality Websites!
نصرت پر یقین ہے، پھر اللہ پاک بھی (1): اُن کے دِل پر ایمان نقش فرما دیتا ہے (2):اپنی طرف سے ایک رُوح (مثلاً رُوحُ القدس حضرت جبریل علیہ السَّلام) کے ذریعے، اِن کی خاص مدد اور تائید فرماتا ہے۔([1])
اعلیٰ حضرت اور تائیدِ رَبَّانی
الحمد للہ! یہ دونوں وَصْف (1):مضبوط اِیمان (2):تائیدِ ربّانی (یعنی اللہ پاک کی خاص مدد و نصرت) اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی سیرتِ پاک میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ مثلاً* صِرْف 4 سال کی عمر میں جب کہ بچے کو ٹھیک بولنا بھی نہیں آتا، آپ ناظرہ قرآنِ کریم مکمل کر چکے تھے *6یا 7 سال کی عمر میں بھرے مجمع میں عُلَما و مشائخ کی موجودگی میں تقریر فرما رہے تھے *8 سال کی عمر میں دَرْسِ نظامی میں پڑھائی جانے والی عربی کتاب پر، عربی زبان میں حاشیہ لکھ رہے تھے([2]) *13 سال، 10ماہ، 4 دِن کی عمر مُبارَک میں آپ نے پہلا فتویٰ لکھا اور باقاعِدہ مفتی کی مسند پر تشریف فرما ہوئے([3]) *دل کی صفائی جس کے لیے صُوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ 80 سال کی محنت درکار ہے۔([4])یہ خوبی آپ رحمۃُ اللہ علیہ کو 22 سال کی عمر میں ہی حاصِل ہو گئی تھی، آپ رحمۃُ اللہ علیہ شاہ آلِ رسول رحمۃُ اللہ علیہ کے پاس بیعت کے لیے حاضِر ہوئے تو حضرت نے آپ کو نہ صرف بیعت کیا بلکہ اپنی خلافت سے نوازتے ہوئے حاضِرین سے فرمایا:احمد رضا صاف شفَّاف دِل لے کر بالکل تیار
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami