Share this link via
Personality Websites!
یاد رکھیے!عالم کی محبّت بندے کو دین دار بنا دیتی ہے۔مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علیُ المرتضیٰ شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: مَحَبَّةُ الْعَالِمِ دِيْنٌ يُدَانُ بِه یعنی عالِم سے مَحبّت،دین (سے )ہے اور یہ مَحبّت بندے کو دین کے قریب لاتی ہے۔([1])
عاشقِ رسول کو پہچاننے کا نرالا انداز
پیارے اسلامی بھائیو! اعلیٰ حضرت کی محبّت سُنّیت، عاشِقِ رسول ہونے کی علامت ہے۔مکہ مکرمہ میں مالکی فقہ کے ایک عظیم مفتی تھے؛علامہ شیخ سیّد محمد عَلْوِی مَالکی رحمۃُ اللہ علیہ، آپ رحمۃُ اللہ علیہفرماتے ہیں:مولانا احمد رضا خان بریلوی سے محبّت سُنّیت کی علامت ہے اور ان سے بُغض و عَداوت بِدعت کی علامت ہے۔([2])
حضرت علامہ قادر بخش سَہْسَرامی رحمۃُ اللہ علیہ بہت بڑے عالِمِ دِین ہوئے ہیں، ایک مرتبہ آپ سے لوگوں نے پوچھا کہ ہمیں عاشقِ رسول سُنی اور بدمذہب کی پہچان کا کوئی سَادہ سَاقاعدہ بتا دیجیے! آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: جس بندے کے بارے میں یہ جاننا ہو کہ بد مذہب ہے یا عاشقِ رسول ہےتو اُس کے سامنے مولانا احمد رضا خان صاحب کا ذِکر شروع کر دیجیے! اگر چہرہ کِھل اُٹھے تو یقین جانیے کہ عاشقِ رسول سُنی ہے اور اگر چہرہ اتر جائے تو سمجھ لیجیے کہ بد مذہب ہے۔([3])
جلوہ ہے نور ہے کہ سراپا رضا کا ہے تصویرِ سُنّیت ہے کہ چہرہ رضا کا ہے
اس دورِ پُرفتن میں نظؔر خوش عقیدگی سرکار کا کَرم ہے وسیلہ رضا کا ہے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami