Share this link via
Personality Websites!
پاک کو پڑھیں تو اَوَّل سے آخر تک آپ کی پُوری زندگی ہمیں اُمّت کی خیرخواہی، بھلائی اور ترقی کے لیے وقف نظر آتی ہے۔
آپ کے جذبۂ خیر خواہی کا اَندازہ اِس سے فرمائیے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نے کم و بیش 1 ہزار کتابیں لکھی ہیں، آپ روزانہ صِرْف ڈیڑھ سے 2 گھنٹے آرام فرماتے تھے۔([1]) باقی کا سارا وقت تصنیف و تَالِیف، اُمّت کی خیر خواہی، بھلائی، اِصْلاح اور دیگر دینی کاموں میں صَرْف فرمایا کرتے تھے۔
خیرخواہئ مسلم کے مُتَعَلِّق نصیحتیں
مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی، بھلائی اور ہمدردی اپنانے سے مُتَعَلِّق اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی چند نصیحتیں سنیے! آپ فرماتے ہیں:*مسلمان کی اِعَانت (یعنی اُس کی مدد کرنا) اللہ پاک کو نہایت پسند ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: اللہ پاک اپنے بندے کی اُس وقت تک مدد فرماتا رہتا ہے، جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے*بغیر تحقیق کے کسی مسلمان کی طرف گُنَاہ کی نسبت کرنا حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے (یعنی ہم بِلاوجہ سُنی سُنائی باتوں میں آ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ فُلاں جھوٹ بولتا ہے، فُلاں بےنمازی ہے، فُلاں سُود خور ہے، ہم ہمیشہ اپنے مسلمان بھائیوں سے مُتَعَلِّق حُسْنِ ظن ہی رکھیں گے)* مسلمان کی توہین کرنا حرام ہے*بلا وجہِ شرعی کسی جاہِل مسلمان کو بھی گالی دینا، اُس کی توہین کرنا حرام ہے*مسلمان بھائی سے 3 دن سے زیادہ بول چال بند رکھنا ناجائِز و حرام ہے*مسلمان بھائی کی توبَہ (یعنی مُعَافِی) قبول کرنی واجب ہے۔ (یعنی کسی مسلمان بھائی سے کوئی غلطی ہو گئی، اب وہ ہم سے مُعَافی مانگتا ہے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ دِل سے مُعَافی نہیں مانگ رہا، ہم پر ضروری ہے کہ اُس کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami